خطبات محمود (جلد 26) — Page 282
$1945 282 خطبات محمود حکومت کو توڑ کر رکھ دے؟ بلکہ لاہور تو پھر بھی متمدن شہر ہے اور یوں سمجھو کہ جھنگ کا ضلع اُٹھ کھڑا ہو یا ڈیرہ غازیخان کے لوگ اُٹھ کھڑے ہوں اور ان کے اُٹھتے ہی روس سے خبر آرہی ہو کہ ماسکو فتح ہو گیا ہے، انگلستان سے خبر آرہی ہو کہ لندن فتح ہو گیا ہے، امریکہ سے خبر آرہی ہو کہ واشنگٹن اور نیو یارک فتح ہو گیا ہے، جاپان سے خبر آرہی ہو کہ ٹوکیو فتح ہو گیا ہے۔یہ بات کسی انسان کے وہم میں بھی نہیں آسکتی۔اور پھر یہ کامیابی کسی لمبے عرصہ میں نہیں بلکہ ایک نہایت ہی قلیل عرصہ میں ہوئی۔حضرت ابو بکر کی خلافت پونے تین سال اور حضرت عمرؓ کی خلافت کا زمانہ نو سال ہے۔اس بارہ سال کے عرصہ میں قریباً تمام ملک فتح ہو گئے تھے۔اور حضرت عثمان کے زمانہ میں کوئی ملک ایسانہ تھا جو فتح نہ ہوا ہو۔پس صحابہ پر شباب بھی آیا تو ایسا کہ دنیا اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔پھر بڑھاپے کا زمانہ آیا تو وہ بھی کمال کا۔بڑھاپے کے معنے عقل اور تجربہ کے ہیں۔عقل اور تجربے کے لحاظ سے جس طرح صحابہ نے حدیث کی تدوین کی یا قرآن مجید کے معارف اور اس کے نکات کو اخذ کیا ہے کسی اور قوم نے اتنے قریب زمانہ میں اخذ نہیں کیا۔اور نہ ہی کسی قوم نے اس قدر قریب زمانہ میں تصوف اور فقہ کی تدوین کی جتنے قریب زمانہ میں صحابہ نے کی۔یہودیوں میں فقہ اور تصوف کی بے شک تدوین ہوئی مگر ایک ہزار سال کے بعد۔یعنی حضرت عیسی کے زمانہ سے چار سو سال پہلے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور تابعین نے ان علوم کی تدوین میں کمال کر دیا۔تو بڑھاپا بھی آیا مگر کمال درجے کا۔گویا صحابہ نے تینوں ادوار کا اعلیٰ ترین نمونہ باقی دنیا کے لئے قائم کر دیا۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی تاریخ پڑھ کر انسان کے دل پر ایسا گہرا اثر پڑتا ہے کہ کسی قوم کے حالات پڑھ کر وہ اثر محسوس نہیں ہوتا۔اب اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کو اسی کام کے سر انجام دینے کے لئے کھڑا کیا ہے جو صحابہ نے کیا تھا۔ہمیں دیکھنا چاہیے کہ ہمارا بچپن کیسا تھا؟ اور ہماری جوانی کیسی ہے ؟ اگر بچپن اچھا نہ ہو تو انسان گھبراتا ہے کہ فلاں بات نہیں پوچھی، فلاں بات باقی رہ گئی۔لیکن اگر بچپن کمال کا ہو تو تسلی ہوتی ہے کہ ہم نے جو کچھ پوچھنا تھا پوچھ لیا۔