خطبات محمود (جلد 26) — Page 279
$1945 279 خطبات محمود سب کچھ بھول جاتا ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَ اللهُ خَلَقَكُم ثُمَّ يَتَوَفيكُمْ وَ مِنْكُمْ فَمَنْ يُرَدُّ إِلَى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْ لَا يَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا 3 - اس حالت میں انسان کو کچھ علم نہیں ہوتا کہ میں کیا کر رہا ہوں۔میں نے بعض بڑھوں کو بچوں کی طرح روتے دیکھا ہے۔محض اس لئے کہ مجھے فلاں چیز نہیں ملی یا فلاں نے میری خبر گیری نہیں کی۔مجھے یاد ہے مولوی محمد احسن صاحب امروہی مرحوم قادیان آئے اور ان سے مختلف باتیں ہوئیں۔آخر میں انہوں نے علیحدگی میں میرے ساتھ گفتگو کی اور صاف طور پر اقرار کیا کہ وہ پوری طرح سمجھ گئے ہیں کہ راستی اور سچائی قادیان میں ہے لیکن ساتھ ہی رو پڑے اور کہا کہ میں مجبور ہوں۔میری بیوی میری طہارت کرتی ہے اور وہی میری خدمت کرتی ہے اس لئے میں اُس کا محتاج ہوں۔پیغامیوں نے میرے بیوی بچوں کو لالچ دیا ہوا ہے اس لئے وہ انہیں نہیں چھوڑتے اور میں اُن کے ساتھ جانے پر مجبور ہوں۔اب یہ بھی بڑھاپے کی ایک مجبوری تھی۔لیکن بڑھاپا اپنے ساتھ تجارب بھی لاتا ہے۔بچپن اور جوانی کے تجارب کے بعد جو خلاصہ نکلتا ہے بڑھاپا اُس خلاصے کا برتن ہے۔جیسے بھینس چارہ کھاتی ہے، اس کو حمل ہو تا ہے ، حمل سے بچہ پیدا ہوتا ہے اور پھر اسکے تھنوں میں دودھ پیدا ہو جاتا ہے۔اسی طرح وہ برتن جس میں دودھ دوہا جاتا ہے وہ بڑھاپا ہے جو تمام زندگی کا خلاصہ اپنے اندر رکھتا ہے۔اگر انسان کی اعصابی طاقتیں ماری جائیں تو یہ عمر انسان کے لئے دکھ اور تکلیف کی عمر ہوتی ہے۔لیکن اگر دماغی طاقتیں قائم رہیں اور جسمانی طاقتیں بھی ایسی کمزور نہ ہوں کہ انسان بے کار ہو جائے تو یہ عمر زندگی کے تجارب کا بہترین خلاصہ ہوتی ہے۔جس کے بغیر دنیا صحیح طور پر آگے نہیں بڑھ سکتی۔غرض ہر دور اپنے اندر خوبیاں بھی رکھتا ہے اور نقائص بھی۔جس طرح انسانی زندگی ہے اسی طرح قومی زندگی بھی ہوتی ہے۔جس طرح ایک فرد پیدا ہو تا ہے اسی طرح قوم پیدا ہوتی ہے۔اور جو ادوار افراد پر گزرتے ہیں وہی قوموں پر بھی گزرتے ہیں۔قومیں بھی افراد کی طرح پیدا ہوتی ہیں۔اور وہ بچوں کی طرح بچپن کی غلطیاں بھی کرتی ہیں۔بچپن کی قسم کی بیوقوفیاں بھی کرتی ہیں اور بچوں کی طرح سوال و جواب بھی کرتی ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ