خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 280

+1945 280 خطبات محمود ہزاروں سوالات صحابہ کی طرف سے اور مستورات کی طرف سے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر کئے گئے۔اور جب آپ نے اُن کے جوابات دیئے تو اُن کا علم ترقی کر گیا اور آنے والے لوگوں کے لئے ترقی کا ایک نیا باب کھل گیا۔تاریخوں میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ ایک یہودی حضرت عمر کی مجلس میں آیا۔اور کہنے لگا کہ ہمیں تو آپ کی شریعت پر رشک آتا ہے۔پیشاب، پاخانہ ، نہانا، دھونا، کھانا، پینا، کپڑے پہننا۔غرض ہر چیز کا ذکر اس میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔یہ رشک اسے انہی سوالات کی وجہ سے پیدا ہوا جو صحابہ فرداً فردار سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کرتے تھے۔اگر اُن سوالات کو الگ الگ کر کے دیکھا جائے تو بچوں کے سے سوالات معلوم ہوتے ہیں۔لیکن اگر اُنہیں یکجائی طور پر دیکھا جائے تو کہنا پڑتا ہے کہ اگر یہ سوالات نہ ہوتے تو اسلام کی عمارت نامکمل رہ جاتی۔اس کے مقابلہ میں جن قوموں کی بچپن کی عمر نا مکمل رہ جاتی ہے وہ احکام کی تفاصیل سے محروم رہتی ہیں۔اور جب اُن سے اخلاقی یا تمدنی احکام کی تفصیلات کے متعلق سوال کیا جائے تو وہ کہہ دیتی ہیں کہ اس کے متعلق تو ہماری شریعت میں کچھ نہیں لکھا۔لیکن قرآن کریم نے تمام امور پر روشنی ڈالی ہے اور کسی اہم امر کو نظر انداز نہیں کیا۔گو تمام مضامین کی تفصیل اس کے اندر نہیں۔اور نہ اتنے مضامین کی تفصیل محدود صفحات میں آسکتی تھی۔اگر قرآن کریم میں سب مضامین اس تفصیل کے ساتھ لکھے جاتے اور ہر آدمی سب مسائل کا جواب اسی میں سے نکال سکتا بلکہ ہر سوال اس میں حل کیا ہوا ہو تا تو قرآن کریم چار پانچ سو صفحے کی کتاب نہ ہوتی بلکہ دس بیس لاکھ صفحے کی کتاب ہوتی اور کوئی بھی اسے پوری طرح پڑھ نہ سکتا۔اور بجائے ہر رمضان میں پورا قرآن مجید تلاوت کر لینے کے لوگ ساری عمر پڑھتے رہتے اور پھر بھی پورا نہ پڑھ سکتے۔کوئی پندرھویں پارے تک پہنچتا اور مر جاتا، کوئی بیسویں پارے تک پہنچتا اور مر جاتا اور کوئی ایک آدمی زیارت کے قابل ایسانہ ملتا جس نے پورا قرآن مجید پڑھا ہو تا۔تو عوام الناس کو فائدہ پہنچانے کے لئے ضروری تھا کہ خدائی کلام مختصر ہو اور اُس میں اشار تأسارے علوم موجود ہوں۔اور ان اشارات کی تفصیل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ظاہر ہو۔یہ تفصیل اسی صورت میں ظاہر ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کو یہ شوق عطا فرمایا