خطبات محمود (جلد 26) — Page 276
$1945 276 خطبات حمود کیونکہ وہ ان چیزوں کو شروع سے دیکھتا آیا ہے اور دیکھتے چلے آنے کی وجہ سے تجسس کا مادہ اس میں نہیں رہا۔لیکن جو نیا یا آتا ہے وہ ہر چیز کو غور سے دیکھتا ہے اور پوچھتا ہے کہ یہ کیا ہے؟ وہ کیا ہے؟ یہ اس طرح کیوں ہے؟ اسی طرح جو لوگ بڑی عمر کے ہو جاتے ہیں وہ اس دنیا کی زندگی کے عادی ہو جاتے ہیں اور اپنے لمبے تجربہ کی بناء پر اور لمبے تجسس کی وجہ سے اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ دنیا کی بعض چیزیں سمجھ میں آسکتی ہیں اور بعض نہیں آسکتیں۔اور جو چیزیں اُن کی سمجھ میں نہیں آتیں اُن کے متعلق وہ خیال کر لیتے ہیں کہ یہ سمجھ میں آنے کے قابل ہی نہیں۔حالانکہ جو چیزیں اُن کی سمجھ میں نہیں آتیں ان میں سے ایک بڑا حصہ ہوتا ہے جو دوسروں کی سمجھ میں آسکتا ہے مگر جب وہ اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ یہ چیزیں ہماری سمجھ میں آہی نہیں سکتیں تو ان کی طرف سے توجہ ہٹا لیتے اور ان کے متعلق تجسس چھوڑ دیتے ہیں۔مگر بچے کے اندر یہ مادہ ہوتا ہے کہ جب وہ کوئی نئی چیز دیکھتا ہے تو اس کے متعلق سوالات شروع کر دیتا ہے۔اگر بادلوں کو دیکھتا ہے تو پوچھتا ہے کہ بادل کیا چیز ہیں؟ کیوں آتے ہیں؟ کہاں سے آتے ہیں؟ کیونکر برستے ہیں؟ غرض وہ سوالات جو ایک سائنسدان کے دل میں پیدا ہوتے ہیں یا ایک حساب دان کے دل میں پیدا ہوتے ہیں یا ایک تاریخ دان کے دل میں پیدا ہوتے ہیں وہی سوالات اس بچے کے دل میں بھی پیدا ہوتے ہیں بلکہ درمیانہ درجہ کے سائنسدان، در میانہ درجہ کے حساب دان اور درمیانہ درجہ کے تاریخ دان کے دل میں وہ سوالات پیدا ہی نہیں ہوتے جو ایک بچے کے دل میں پیدا ہوتے ہیں۔اور یہ سوالات ان کے دلوں میں اِس لئے پیدا نہیں ہوتے کہ وہ دنیا میں ایک لمبا عرصہ رہنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچ چکے ہوتے ہیں کہ ہر چیز جس کا وجود دنیا میں ہے ہم اس کی کنہ اور حقیقت کو حل نہیں کر سکتے۔لیکن بچے نے ابھی یہ سوال حل نہیں کیا ہو تا وہ سمجھتا ہے کہ میر افرض ہے کہ میں ہر چیز کو غور سے دیکھوں اور اس کے متعلق پوچھوں۔اس لئے وہ ہر چیز کے متعلق سوال کرتا چلا جاتا ہے اور اُس کا دماغ بھی ان باتوں کو اخذ کرنے کے لئے زیادہ آمادہ ہوتا ہے۔یہ کتنا بڑا فائدہ ہے۔اگر بچپن کا زمانہ انسان پر نہ آتا، اگر بچپن کی خصوصیات نہ ہوتیں تو دنیا میں علوم کا قیام بھی نہ ہوتا کیونکہ علوم کا قیام بچپن کے ساتھ وابستہ ہے۔