خطبات محمود (جلد 26) — Page 218
+1945 218 خطبات حمود پہلے اپنے اعمال کو اور اپنے نوجوانوں کے اخلاق کو درست کر لینا چاہیے۔اور اُس وقت سے پہلے ہمارے تبلیغی مشن جو پہلے قائم ہیں اور جو نئے قائم ہوں وہ مضبوط اور تنظیم میں جکڑے ہوئے ہوں۔اور اُس وقت سے پہلے ہندوستان میں ہماری جماعت اتنی پھیل جائے کہ وہ ایک مینارٹی (Minority) نہ کہلائے بلکہ ایک میجارٹی ہو۔اور اگر میجارٹی نہیں تو کم از کم ایک زبر دست مینارٹی ہو۔اور اُن مصائب اور اُس خطرہ کے وقت سے پہلے ہماری جماعت یورپ کے تمام ممالک انگلستان، فرانس، جرمنی، اٹلی اور سپین وغیرہ میں اور افریقہ اور امریکہ کے تمام ممالک میں اتنا اثر و نفوذ پیدا کر لے کہ آنے والی مصیبت اور خطرہ میں ہماری آواز بیکار نہ ہو بلکہ وہ ایسی وزنی ہو کہ قومیں اسے سننے پر مجبور ہوں۔اگر ہم یہ کام کر لیں تو آنے والے فتنے ہمارے لئے بشارتوں اور خوشخبریوں کا موجب ہوں گے۔اور اگر ہم اس میں ناکام رہے تو آنے والے فتنے ہمارے لئے نہ معلوم کتنے تاریک سال پیدا کر دیں گے۔اور کتنی مشکلات اور مصائب ہمارے رستہ میں حائل کر دیں گے۔رستہ تو طے ہونا ہی ہے اور فتح تو ہمارے لئے مقدر ہے ہی۔مگر ایک راستہ ایسا ہوتا ہے جو آسانی سے طے ہو جاتا ہے اور ایک راستہ ایسا ہوتا ہے جو مصائب اور مشکلات کے بعد طے ہوتا ہے۔اور ہر عظمندر آدمی دنیوی لحاظ سے بھی اور دینی لحاظ سے بھی یہ کوشش کرتا ہے کہ جو کام اللہ تعالیٰ نے اس کے سپر د کیا ہے وہ آسان طریق سے اور سہل اور قریب طریق سے اور جلدی حاصل ہو جائے۔پس جو جماعت اس کام کو جو خدا تعالیٰ نے اس کے سپرد کیا ہے جلدی اور آسان طریق سے کرنے کی کوشش کرتی ہے وہ زیادہ سے زیادہ انعامات کی مستحق ہوتی ہے۔اور جو جماعت اس کام کو جلدی اور آسان طریق سے نہیں کرتی یا تو اس کا انعام کم ہو جاتا ہے اور یاوہ ملامت کی مستحق ٹھہرتی ہے۔پس چونکہ یہ اہم موقع تھا اس لئے باوجود اس کے کہ میں زیادہ بول نہیں سکتا اور باوجود اس کے کہ پاؤں میں درد کی وجہ سے میرے لئے چلنا مشکل تھا یہاں تک کہ راستہ میں جب میں نے زیادہ تکلیف محسوس کی تو میں نے خیال کیا کہ میں واپس ہی چلا جاؤں مگر بوجہ اس موقع کی اہمیت کے میں آگیا۔پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ اب وقت غفلتوں اور سُستیوں کا نہیں۔کمر ہمت باندھ لو اور مقصود تک پہنچے کے لئے سارا زور لگا دو۔جن اخلاق کے بغیر فتوحات حاصل نہیں ہو سکتیں،