خطبات محمود (جلد 26) — Page 168
$1945 168 خطبات محمود نے کیا اثر قبول کیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم میں سے ہر ایک جو حاضر ہے وہ میری باتیں غائب کو سنادے۔1 کیونکہ کئی غائب ایسے ہیں جو زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں بہ نسبت حاضر کے۔پس میں نہیں جانتا جماعت کے عہدہ داروں نے میری اس نصیحت سے کیا فائدہ اٹھایا۔میں اس بات کو پھر تمام جماعت کے سامنے دہرا دینا چاہتا ہوں تاکہ سب جماعت اپنی ذمہ داری اور اپنے فرض کو سمجھ سکے۔میں نے کچھ عرصہ سے بار بار خدا تعالیٰ سے علم اور آگاہی حاصل کر کے جماعت کو اس طرف توجہ دلائی ہے کہ دنیا کے سامنے بہت بُرے دن آنے والے ہیں اور اسلام ایسے خطر ناک مرحلہ سے گزرنے والا ہے کہ اس قسم کا مرحلہ اسلام کو کبھی پیش نہیں آیا۔وہ پیشگوئیاں جو اس قسم کے خطرات کے متعلق قرآن مجید اور احادیث میں بیان کی گئی ہیں اُن کے پورا ہونے کا زمانہ آنے والا ہے۔اس کے آنے سے پہلے ہمیں اپنی طاقت اور قوت کو مجتمع کر لینا چاہیے اور ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ سامان مہیا کر لینے چاہئیں تاکہ ہم اسلام کی حفاظت کر سکیں۔جیسا کہ پہلے اعلان کیا جا چکا ہے ہندوستان میں سات مقامات پر خصوصیت سے تبلیغی مراکز قائم کرنے کی ضرورت ہے اور یہ سات مقامات ایسے ہیں جو ہندوستان اور بیرونی ممالک کو مد نظر رکھتے ہوئے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ان میں سے ایک لاہور ہے جو اس صوبہ کا سیاسی صدر مقام ہونے کی وجہ سے جس میں قادیان واقع ہے دوسرے صدر مقامات سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔دوسر ادتی ہے جو ہندوستان کا صدر مقام ہے۔تیسر ا پشاور ہے جو ہندوستان کی شمال مغربی سرحد کا صدر مقام اور اسلامی ممالک کا راستہ ہونے کے لحاظ سے اہمیت رکھتا ہے۔چوتھا کراچی ہے جو عرب کا دروازہ ہونے اور عراق اور ایران وغیرہ کا دروازہ ہونے کے لحاظ سے اہمیت رکھتا ہے۔پانچواں بمبئی ہے جو افریقہ کے اکثر ممالک کا دروازہ ہونے کے لحاظ سے اور ان جزائر کا دروازہ ہونے کے لحاظ سے جو ہندوستانی سمندر میں پائے جاتے ہیں اہمیت رکھتا ہے۔چھٹا مدراس ہے جو سیلون سٹریٹ سیٹلمنٹ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا دروازہ ہونے کے لحاظ سے اہمیت رکھتا ہے۔ساتواں کلکتہ ہے جو ہندوستان کا انتہائی مشرقی مقام ہے اور برما، چین ، جاپان، ملایا، سماٹر ا اور جاوا کا دروازہ ہونے کے لحاظ سے اہمیت رکھتا ہے۔یہ سات مقامات ہیں جو خصوصیت سے ہندوستان اور