خطبات محمود (جلد 26) — Page 169
$1945 169 خطبات محمود بیرونی ممالک میں تبلیغ کرنے کے لئے اہمیت رکھتے ہیں۔ان میں سے ایک لاہور بھی ہے۔اگر اس مقام پر ہماری جماعت کو مضبوطی حاصل ہو جائے تو پنجاب میں احمدیت پھیلانا ہمارے لئے آسان ہو جائے۔قادیان تو وہی جاتا ہے جس کو احمدیت سے دلچسپی ہو۔لیکن لاہور میں پنجاب کا ر شخص آتا ہے۔اگر احمدیت لاہور میں مضبوط ہو جائے تو بیر و نجات سے لاہور میں آنے والا ہر شخص خواہ اسے احمدیت سے دلچپسی ہو یا نہ ہو وہ یہاں کی جماعت کے ذریعہ احمدیت سے متاثر ہو گا۔اور لاہور میں احمدیت کو طاقت اور قوت حاصل ہو جانے سے سارے علاقہ میں اُسی طرح اثر ڈالا جاسکے گا جس طرح گھڑیال بجانے سے میلوں میل تک آواز سنی جاتی ہے۔میں نے کل عہدہ داروں کی میٹنگ میں بتایا تھا کہ یہ تبلیغ جو اس وقت تک ہو رہی ہے یہ کوئی چیز نہیں۔اس میں بہت سی خامیاں ہیں۔اور میں نے ہدایت کی تھی کہ جلد سے جلد لاہور کا سروے کر کے ایک نقشہ تیار کیا جائے جس میں ہر محلے ، ہر گلی اور ہر کوچے پر نشان ہو۔اور ر وہ میرے پاس بھیج دیں اور ایک نقل اپنے پاس بھی رکھیں تاکہ اس کے مطابق تبلیغ کی جائے۔خالی بڑے بڑے حلقے بنادینا کہ یہ حلقہ نیلا گنبد کا ہے، یہ حلقہ مال روڈ کا ہے، یہ حلقہ دہلی دروازہ کا ہے، یہ حلقہ سول لائن کا ہے یہ کوئی معنے نہیں رکھتا۔یہ تبلیغ اور یہ کوشش تو ایسی ہی ہے جیسے لاکھوں کے مجمع میں کوئی شخص کھڑا ہو کر کہے کہ بھٹی پانی لانا۔اس پر بعض دفعہ تو پانی کا ایک گلاس لانے کے لئے ہزار آدمی اُٹھ کھڑے ہوں گے اور بعض دفعہ ایک آدمی بھی نہ اُٹھے گا۔کیونکہ ہر شخص یہی سمجھ رہا ہو گا کہ اتنے بڑے مجمع میں سے کوئی نہ کوئی جاکر پانی کا گلاس لے آئے گا میرے اٹھنے کی کیا ضرورت ہے۔پس یہ تبلیغ جو اِس وقت تک ہو رہی ہے یہ صحیح طریق پر نہیں ہو رہی۔اس کے لئے سب سے پہلا طریق یہی ہے کہ سارے لاہور کا سروے کر کے نقشہ تیار کیا جائے جس میں ہر محلے، ہر گلی، ہر کوچے اور ہر چھتے پر نشان لگا ہوا ہو۔اور اُس کی ایک نقل یہاں کی انجمن کے پاس رہے اور ایک مجھے بھیج دی جائے تاکہ اس کو سامنے رکھ کر میں بھی سوال کر سکوں کہ فلاں گلی میں کتنے غیر احمدی ہیں جن کے ساتھ ہمارے احمدیوں کی دوستی ہے۔اور اس گلی میں کتنی دفعہ تبلیغ کی گئی۔یہ بات گوبظاہر معمولی نظر آتی ہے لیکن نتائج کے لحاظ سے بہت شاندار ہے۔اگر اس طریق کو استعمال کیا جائے تو یہ طریق