خطبات محمود (جلد 26) — Page 106
$1945 106 خطبات محمود گئے۔اس قسم کی امانت ہے جو لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کرتی ہے۔چنانچہ آج تک اس خاندان کی جو عظمت دتی کے لوگوں کے دلوں میں ہے اور اس خاندان کا جو ادب و احترم لوگوں میں پایا جاتا ہے یہ خالی اِس بات کی وجہ سے نہیں کہ یہ بڑے طبیب ہیں بلکہ ساتھ ہی یہ ادب واحترام اس بات کی وجہ سے بھی ہے کہ ان کے خاندان نے ایک وقت دیانت کا نہایت اعلیٰ نمونہ دکھایا تھا۔پس اعلیٰ درجہ کی دیانت کا جو نمونہ اس خاندان نے دکھایا ہے اس کی وجہ سے اس خاندان کی عزت اور عظمت کم از کم پوتوں تک تو جائے گی۔چاہے دیسی طب کا کوئی مخالف ہو اور چاہے ڈاکٹری علاج کرائے مگر دلّی کا رہنے والا اس خاندان کی عظمت کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔کیونکہ اس نے اس خاندان کی دیانت اور شرافت کا حال سنا ہوا ہے۔کچھ مدت کے بعد پھر خرابیاں شروع ہو جاتی ہیں اور لوگ بھول جاتے ہیں وہ اور بات ہے۔کم از کم یہ اثر ان کے پوتوں تک تو جائے گا۔پس دیانت اور سچائی ایسی چیزیں ہیں کہ ان کے بغیر کسی قوم کا رعب قائم نہیں ہو سکتا۔مسلمانوں میں امانت اور قول کی پاسداری اتنی شاندار تھی کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ایک قتل کا مقدمہ پیش ہوا اور قاتل کو سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔جب اسے قتل کرنے لگے تو اُس نے کہا میرے پاس یتیموں کی امانتیں ہیں اگر میں مارا گیا تو بے چارے یتیم جن کی امانتیں میرے پاس جمع ہیں ساری عمر بھو کے مریں گے۔مجھے اجازت دی جائے کہ میں ان کی امانتیں ان کے سپرد کر آؤں۔تھا وہ بادیہ کا رہنے والا۔قاضی نے کہا کہ تمہارا کوئی ضامن ہے کہ تم وقت پر پہنچ جاؤ گے اور اگر نہ آؤ تو ہم اسے پکڑیں؟ غالباً خود حضرت عمر ہی کی مجلس تھی۔اُس نے اِدھر اُدھر دیکھا اور حضرت ابو ذر غفاری پر اُس کی نظر پڑی اور کہا کہ یہ میرے ضامن ہیں۔ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ اس کی ضمانت دیتے ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں۔چنانچہ اُس کو تاریخ دے دی گئی اور وہ چلا گیا۔جب مقررہ دن آیا تو پھر مدعی بدلہ لینے کے لئے آموجود ہوئے۔دوسرے لوگ بھی جمع ہو گئے۔سزا کا جو وقت مقرر تھا وہ وقت قریب ہو رہا تھا۔لیکن اس شخص کا کہیں نام و نشان نہیں تھا۔تب صحابہ میں گھبراہٹ شروع ہوئی کہ ایک مخلص صحابی مارا جائے گا کیونکہ وہ ضامن تھا۔بعض نے پوچھا ابو ذر! جانتے ہو وہ تھا کون ؟ اتنی دیر ہو گئی ابھی تک وہ آیا نہیں۔انہوں نے جواب دیا مجھے نہیں پتہ کون تھا۔لوگوں