خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 100

خطبات محمود 100 +1945 کر الگ پھینک دے گا اور اچھی چیز آپ کے سامنے رکھے گا۔اور بعض تو ایسے ہیں کہ سال کے بعد ناقص اور خراب چیزوں کو نکال کر باہر پھینک دیتے ہیں۔مگر ایک ہندوستانی کٹے ہوئے تھان کو بڑے اہتمام سے لپیٹ لپاٹ کر نا قص حصہ چھپا دے گا اور اچھا حصہ آپ کے سامنے رکھے گا۔اور جب آپ اس کو گھر لا کر دیکھیں کہ وہ خراب ہے اور آپ اسے واپس کرنے جائیں تو وہ صاف انکار کر دے گا کہ میں نے تو آپ کو یہ نہیں دیا آپ کو غلطی لگتی ہے۔شاید آپ نے کسی اور دکان سے خریدا ہو گا۔اور اس بد دیانتی کی وجہ سے خوش ہو گا کہ میں نے اپنا ناقص مال چلا دیا۔پس قومی تنزل کی بنیاد جھوٹ اور بد دیانتی ہے۔جو قوم جھوٹ اور بد دیانتی کو مٹا نہیں سکتی اور اس کے باوجود وہ یہ سمجھتی ہے کہ اسے ترقی اور عزت حاصل ہو جائے گی تو اس کا یہ خیال ایسا خام خیال ہے جیسے ایک بچہ کا یہ خیال کہ وہ چاند کے پاس پہنچ جائے گا یا ستاروں کے پاس پہنچ جائے گا۔جس طرح ایک بچہ کی چاند یا ستاروں تک پہنچنے کی خواہش ناکام رہتی ہے اور اس کی یہ مراد پوری نہیں ہو سکتی اسی طرح وہ قوم جس کے اندر جھوٹ اور بد دیانتی پائی جاتی ہے اور اس کے باوجود وہ یہ امید رکھتی ہے کہ اسے ترقی اور عزت حاصل ہو گی اس کی یہ امید کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی اور کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منافق کی یہ دو علامتیں بیان فرمائی ہیں کہ جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو وہ بد دیانتی کرتا ہے اور جب بات کرے تو جھوٹ بولتا ہے۔مگر ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ حال تھا کہ آپ کا دشمن بھی اقرار کرتا تھا کہ آپ جھوٹ نہیں بولتے۔ایک تو کسی کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ جھوٹ نہیں بولتا اور ایک یہ کہ وہ سچائی کے لئے مشہور ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق یہی نہیں کہ دشمن یہ اقرار کرتا تھا کہ آپ جھوٹ نہیں بولتے بلکہ آپ سچائی کے لئے مشہور تھے اور یہ اُس وقت کی بات ہے جب آپ پر وحی نازل ہو نا شروع نہیں ہوئی تھی۔لوگوں کو آپ کی سچائی پر اس قدر اعتبار تھا کہ جب آپ پر وحی نازل ہوئی کہ لوگوں کو ہدایت کی طرف بلاؤ تو آپ نے ایک پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے ہو کر مکہ کے لوگوں کو بلانا شروع کیا۔اونچا پہاڑ تو نہیں تھا پہاڑ