خطبات محمود (جلد 26) — Page 51
خطبات محمود 51 $1945 اگر کوئی شخص خدا کے ساتھ شرطیں باندھتا ہے تو وہ عقل سے کام لیتا ہے عشق سے کام نہیں لیتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس جب مدینہ سے وفد آیا کہ وہ آپ کو اپنے ہاں لے جائے تو حضرت عباس جو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چچا تھے لیکن عمر کے لحاظ سے کوئی زیادہ فرق نہیں تھا وہ صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ایک سال بڑے تھے مگر دنیوی تجربہ رکھتے تھے جب وہ وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس آپ کو مدینہ لے جانے کے لئے آیا تو حضرت عباس نے کہا۔بھتیجے! تمہیں دنیا کا تجربہ نہیں مجھے ساتھ لے چلو اور ان لوگوں سے شر ط طے کر لو کہ وہ تمہاری حفاظت کریں گے۔چنانچہ وہ آپ کے ساتھ گئے اور اس وفد سے کہنے لگے کہ تم ان کو یہاں سے لے جاتے ہو تو ان کے ساتھ عہد کرو کہ تم وہاں ان کی حفاظت کرو گے۔اور اگر کوئی مدینہ میں ان پر حملہ کرے گا تو تم اس کا مقابلہ کرو گے۔یہاں تو خواہ کچھ بھی ہو اور لوگ کتنی مخالفت کریں پھر بھی ہم ان کے چچے تو ہیں۔اگر کسی کے دل میں ان پر حملہ کرنے کا خیال آتا ہے تو وہ ان کو بالکل اکیلا نہیں سمجھتا بلکہ اسے اس کے دس پندرہ رشتہ دار بھی نظر آتے ہیں مگر تمہارے علاقے میں تو یہ بالکل غیر ہو گا اس لئے تم عہد کرو اگر کوئی مدینہ میں ان پر حملہ آور ہو گا تو تم اس کے ذمہ دار ہو گے اور دشمن کا مقابلہ کرو گے۔چنانچہ انہوں نے عہد کیا کہ اگر کوئی مدینہ میں آپ پر حملہ کرے گا تو ہم مدینہ کے لوگ اپنی جانیں قربان کر کے آپ کی حفاظت کریں گے۔اس معاہدہ کے بعد آپ خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق مدینہ تشریف لے گئے۔4 اس کے کچھ عرصہ بعد جب آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اطلاع ملی۔اور خدا تعالیٰ نے حکم دیا کہ تم اپنے ساتھیوں کو لے کر مدینہ سے باہر جاؤ۔تمہارے لئے ایک کام مقدر کیا ہے۔چاہے کفار کا قافلہ تمہارے سامنے آئے اور چاہے کفار کے لشکر سے مقابلہ ہو۔چونکہ کفار کے لشکر کے متعلق کمزور روایات تھیں جن کی بنا پر لشکر سے مقابلہ قطعی نہیں تھا اس لئے بیشتر صحابہ نے یہی سمجھا کہ قافلہ سے مقابلہ ہو گا جو کوئی مشکل نہیں اور جس کے لئے زیادہ آدمیوں کی ضرورت نہیں۔اس لئے تھوڑے سے صحابہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے