خطبات محمود (جلد 26) — Page 48
+1945 48 خطبات حمود مجھے دیا جائے گا اسے میں انعام سمجھوں گا اور اسی میں گزارہ کروں گا۔اور گزارہ نہ بھی ملے تب بھی اپنا پیٹ پالنے کے لئے خود کوئی انتظام کروں گا۔اب یہ ایمان ہے یا بے ایمانی اور کفر ہے کہ پہلے ایک شخص اپنے آپ کو وقف کرتا ہے اور یہ عہد کرتا ہے کہ میں دین کی خاطر ہر طرح کی تکلیف برداشت کروں گا مگر پھر پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے۔اور پھر یہ بھی کتنے ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو وقف کیا ہے ان کی تعداد بھی تو تسلی بخش نہیں۔ظفر کا ایک شعر ہے۔عجب طرح کی ہوئی تسلی جو بار اپنا گدھوں پر ڈالا میں تو سمجھتا ہوں کہ یہی حال ہماری جماعت کے ایک حصہ کا ہے کہ وہ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ تبلیغ کرنا مبلغوں کا کام ہے۔ہم اس کام سے آزاد ہیں حالا نکہ یہ بالکل غلط ہے۔خدا تعالیٰ تم سے تمہاری جانوں کا مطالبہ کرتا ہے اور وہ اس صورت میں کہ اپنی اولادیں دین کی خاطر وقف کرو۔اگر تم دین کے لئے اپنی اولادیں دینے کے لئے تیار نہیں ہو گے تو خدا تعالیٰ تمہاری اولاد میں شیطان کو دے دے گا۔یاد رکھو دنیا میں کسی کی اولاد اُس کے پاس نہیں رہتی۔اگر تمہاری اولاد خدا کی ہو کر نہیں رہے گی تو وہ شیطان کی ہو جائے گی، اگر تمہاری اولاد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے رستہ میں اپنی جانیں نہیں دے گی تو وہ ابلیس کے رستہ میں مرے گی (الْعِيَاذُ بالله ) مگر موت بہر حال ہر ایک پر آتی ہے۔پس اب وقت آگیا ہے کہ ہماری جماعت کا ہر ایک فرد حالات پر غور کرے اور اس بات کی طرف توجہ کرے کہ ان میں سے جو بڑی عمر کے لوگ ہیں اور وہ نئے سرے سے تعلیم حاصل نہیں کر سکتے وہ کمائیں ان کے لئے جو پڑھتے ہیں۔اور دوسرے جو پڑھے ہوئے ہیں وہ آگے آئیں اور اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لئے وقف کریں۔اور دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے ہر سال کم از کم ایک سو طالبعلم مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوں تاکہ ہمیں ہزاروں کی تعداد میں مبلغ مل سکیں۔میں نے اپنے خطبات میں بتایا ہے کہ ہمیں کئی قسم کے آدمیوں کی ضرورت ہے۔ہمیں ضرورت ہے عربی یا انگریزی کے گریجوایٹوں کی جو اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لئے وقف کریں اور دو تین سال میں ہم انہیں سلسلہ کے کاموں یا بیرونی تبلیغ کے لئے تیار کر سکیں۔