خطبات محمود (جلد 26) — Page 41
$1945 41 خطبات حمود اور یہ اپنے کام سے چور ہو کر تھکا ماندہ گھر آتا ہے۔اب اگر کھانے پینے ، آرام کرنے اور سونے کے بعد اس کے پاس گھنٹہ دو گھنٹے نہایت قلیل وقت بچتا ہے جس میں یہ دین کا کوئی کام کر سکے۔لیکن یہ اُس وقت کو بھی کسی اور کام میں صرف کر دیتا ہے تو پھر اسکا اپنے آپ کو احمدی کہنا کیا معنے رکھتا ہے۔جب اس کے اوقات میں خدا تعالیٰ کا کوئی خانہ خالی ہی نہیں تو پھر اس کو خدا کے سپاہیوں میں داخل ہونے کی ضرورت کیا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ احمدیوں میں ابھی کئی ہیں جن کا ایمان راسخ نہیں کہ وہ اپنے اوقات دین کے لئے صرف کریں۔اگر ان سے پوچھا جائے کہ آپ نے دین کا کیا کام کیا ہے تو ان میں سے بمشکل پانچ فیصدی یا دو فیصدی ایسے ہوں گے جو یہ کہیں کہ ہم نے دین کا فلاں کام کیا ہے۔باقی سارے کے سارے ایسے ہوں گے جو یہ کہیں گے کہ جی فرصت ہی نہیں ملتی کہ کوئی کام کریں۔پس اول تو یہی حالت نہایت خطر ناک ہے کہ جماعت کے اکثر افراد ایسے ہیں جو دین کی خدمت کے لئے وقت نہیں نکال رہے۔لیکن جو اپنا کچھ وقت دین کی خدمت کے لئے نکال رہے ہیں وہ بھی اگر اپنی توجہ اور کاموں کی طرف پھیر دیں تو اس کے یہ معنے ہونگے کہ جماعت میں دین کا کام کرنے والا کوئی نہ رہے اور اس کام کے لئے صرف مبلغ رہ جائیں۔اور جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ دین کا کام صرف مبلغوں کے ذریعہ سے ہو سکتا ہے اُس کا یہ خیال بالکل غلط ہے۔مبلغ تبلیغ نہیں کرتا تبلیغ کے لئے رستہ صاف کرتا ہے۔مبلغ تبلیغ نہیں کرتا بلکہ تبلیغ کے لئے مصالحہ بہم پہنچاتا ہے۔تبلیغ کرنے والا جماعت کا ہر فرد ہے۔رشتہ دار اپنے رشتہ دار کو تبلیغ کر سکتا ہے۔ہمسایہ اپنے ہمسایہ کو تبلیغ کر سکتا ہے۔دوست اپنے دوست کو تبلیغ کر سکتا ہے لیکن ایک اجنبی دوسرے اجنبی کو کیا تبلیغ کرے گا۔میں نے بار ہا جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ اپنے رشتہ داروں کے پاس جا کر بیٹھ جائیں اور ان سے جا کر کہیں کہ ہم یہاں سے اُس وقت تک نہیں اٹھیں گے جب تک ہم آپ کو اپنی جماعت میں داخل نہ کر لیں اور آپ کو ہدایت نصیب نہ ہو جائے اور یا آپ ہم پر ثابت نہ کر دیں کہ ہم غلط راستہ پر جارہے ہیں۔اور وہ اپنے اوپر کھانا پینا حرام کر لیتے اور اپنے رشتہ داروں سے جاکر کہتے کہ یا ہم مر جائیں گے اور یا آپ کو ہدایت منوا کر رہیں گے۔مگر