خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 481 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 481

$1945 481 خطبات محمود کھڑا کر دے تو تیری بڑی مہربانی ہو گی۔اللہ تعالیٰ کہے گا میں تیری یہ بات مان لیتا ہوں لیکن وعدہ کر کہ پھر کچھ نہیں مانگے گا۔وہ کہے گا اے خدا! اِس سے زیادہ میں کیا مانگوں گا۔تو مجھے وہاں پہنچا دے پھر میں تجھ سے اور کچھ نہیں مانگوں گا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ اُسے وہاں کھڑا کر دے گا۔کچھ عرصہ کے بعد اسے پھر ایک اور درخت نظر آئے گا جس کے نیچے ٹھنڈ ا چشمہ بھی ہو گا اور وہ پہلے درخت سے زیادہ سایہ دار ہو گا۔اس سے رہا نہ جائے گاور وہ کہے گا الہی! میں نے وعدہ تو کیا تھا پر آب رہا نہیں جاتا۔تو بڑا مہربان ہے اگر مجھے اس درخت سے لے جا کر اُس درخت کے نیچے کھڑا کر دے تو تیری بڑی مہربانی ہو گی۔اللہ تعالیٰ کہے گا تو نے تو کہا تھا کہ میں اور کچھ نہیں مانگوں گا لیکن تو پھر مانگ رہا ہے۔وہ کہے گا الہی ! میں نے کہا تو تھا لیکن اب رہا نہیں جاتا۔تو مجھے وہاں پہنچا دے میں وعدہ کرتا ہوں کہ اسکے بعد میں کچھ اور نہیں مانگوں گا۔اللہ تعالیٰ پھر اُسے وہاں کھڑ ا کر دے گا۔اس طرح یکے بعد دیگرے کئی درخت اُسے نظر آئیں گے اور وہ ان سب کے نیچے سے ہوتا ہوا ایک ایسی جگہ پہنچے گا جہاں سے اسے جنت کا دروازہ نظر آئے گا اور وہ جنت کے لوگوں کو ہر قسم کے آرام اور راحتوں میں پھرتے ہوئے دیکھے گا۔کچھ مدت تو وہ خاموش رہے گا مگر پھر برداشت نہ کر سکتے ہوئے کہے گا اے میرے رب ! میں نے وعدہ تو کیا تھا کہ میں اور کچھ نہیں مانگوں گا پر تو بڑا رحیم ہے، میں جنت نہیں مانگتا اور نہ کسی قسم کی اور نعمت مانگتا ہوں، میں نہ کسی نعمت کا مستحق ہوں اور نہ جنت کی کسی چیز کا۔پر اے خدا! مجھے جنت کے دروازے پر تو بیٹھنے کی اجازت دے دے۔اس پر اللہ تعالیٰ ہنسے گا اور کہے گا دیکھو! میر ابندہ کتنا حریص ہے ، میں جتنا انعام کرتا ہوں اُتنی ہی اس کی حرص بڑھتی چلی جاتی ہے۔لیکن کیا اس کی حرص میرے انعام سے بڑھ جائے گی ؟ نہیں ہر گز نہیں۔پھر فرمائے گا جانہ صرف تجھے جنت کے دروازہ پر بیٹھنے کی اجازت ہے بلکہ جنت میں داخل ہونے کی بھی اجازت ہے اور جنت کے آٹھوں دروازوں میں سے جس دروازہ میں سے چاہے تو داخل ہو سکتا ہے۔8 غرض ترقی ہمیشہ قدم بقدم ہوتی ہے۔یہ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ قیامت کے دن ایسا ہو گا یا یہ محض ایک تمثیل ہے۔اور غالباً یہ تمثیل ہی ہے جس میں مومن جماعتوں کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔مومنوں کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے۔پہلے وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم سو