خطبات محمود (جلد 26) — Page 480
$1945 480 خطبات محمود مل سکا وہ آج حاصل ہو سکتا ہے۔اگر کوئی حاصل نہ کرے تو اور بات ہے ورنہ جنت کی نعماء اور اللہ تعالیٰ کے قرب کی راہیں جس رنگ میں تیرہ سو سال کے بعد آج کھلی ہیں اس طرح تیرہ سو سال میں کسی کے لئے نہیں کھلیں۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ کو چھوڑ کر کہ آپ سید ولد آدم اور تمام نبیوں کے سردار تھے آدم سے لے کر آج تک خدا تعالیٰ کے قرب کی وہ راہیں کسی کے لئے نہیں کھلیں جو ہمارے لئے کھلی ہیں۔اب ہمارا کام یہ ہے کہ ہم قربانیاں کر کے اللہ تعالیٰ کے انعامات کو حاصل کر لیں یا قربانیوں سے منہ موڑ کر اُس کے انعامات سے محروم ہو جائیں۔یاد رکھو قربانیوں کے میدان میں اللہ تعالیٰ اپنا منشاء یکدم ظاہر نہیں کرتا بلکہ اُس کی ہمیشہ سے یہ سنت چلی آئی ہے کہ وہ آہستہ آہستہ اپنے منشاء کو ظاہر کرتا ہے تا کمزور دل انسان گھبرا نہ جائیں اور وہ قربانیوں سے دریغ نہ کریں۔اس لئے ہماری جماعت بھی ابھی اُن ذمہ داریوں کو نہیں سمجھتی جو اس پر عائد ہونے والی ہیں اور ابھی اسے معلوم نہیں کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے۔سوائے اُن لوگوں کے جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے حقیقت کھول دی ہے اور وہ مستقبل کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں جس طرح کہ میں اس کے فضل سے دیکھ رہا ہوں۔ہماری جماعت کی مثال بالکل ویسی ہی ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن دوزخ میں سے ایک شخص کو نکالا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اُسے کہے گا میں تجھے جہنم میں سے تو نکال لیتا ہوں لیکن مجھ سے کچھ اور نہ مانگنا۔وہ کہے گا اے اللہ ! اس سے بڑی نعمت اور کیا ہو سکتی ہے کہ تو مجھے دوزخ میں سے نکال دے۔اگر تو مجھے دوزخ میں سے نکال دے تو میرے لئے سب سے بڑی نعمت یہی ہو گی اور میں تجھ سے اور کچھ نہیں مانگوں گا۔اس پر اللہ تعالیٰ اُس کو باہر نکال کر کھڑا کر دے گا۔کچھ عرصہ کے بعد اُسے دُور ایک درخت نظر آئے گا جو سر سبز و شاداب ہو گا، اُس کا سبزہ دیکھ کر اُس کا دل للچائے گا۔کچھ عرصہ تو وہ برداشت کرتارہے گا اور کہے گا کہ جب میں اللہ تعالیٰ سے وعدہ کر چکا ہوں کہ میں نے اُس سے کچھ اور نہیں مانگنا تو اس سے کوئی سوال کس طرح کروں مگر آخر کہے گا الہی! ہے تو گستاخی، میں نے وعدہ کیا تھا کہ اور کچھ نہیں مانگوں گا لیکن تو رحیم و کریم ہے اگر تو مجھے اس درخت کے نیچے