خطبات محمود (جلد 26) — Page 476
1945ء 476 خطبات محمود کپڑے تقسیم ہوئے تو وہ رومال جو کسری تخت شاہی پر بیٹھتے وقت زینت کے طور پر اپنے ہاتھ میں رکھا کرتا تھا وہ حضرت ابو ہریرہ کے حصہ میں آیا۔ حضرت ابوہریرہ کو ایک دفعہ نزلہ اور کھانسی کی تکلیف تھی۔ ان کو کھانسی جو آئی تو انہوں نے اس رومال میں بلغم تُھوک دیا اور پھر کہا بَحْ بَغِ أَبُو هُرَيْرَة یعنی واہ واہ ابوہریرہ ! یا تو تیرے سر پر جوتیاں پڑا کرتی تھیں اور یا اب یہ حالت ہے کہ تو ایران کے بادشاہ کے اُس رومال میں تھوکتا ہے جس کو وہ بطور زینت استعمال کیا کرتا تھا۔ لوگوں نے پوچھا کہ آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں کہ تیرے سر پر جوتیاں پڑا کرتی تھیں؟ حضرت ابوہریرہ نے فرمایا میں جب اسلام لایا تو میں نے خیال کیا کہ لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہت کچھ فائدہ اٹھا لیا ہے اب مجھے بھی فائدہ اٹھانا چاہیے۔ چنانچہ میں نے اپنے دل میں عہد کر لیا کہ میں آخر دم تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے کو نہیں چھوڑوں گا۔ میں غریب آدمی تھا اور مدد کرنے والا کوئی نہ تھا۔ مجھے کئی کئی وقت کا فاقہ آتا اور فاقہ کو برداشت نہ کر سکنے کی وجہ سے میں بعض دفعہ مسجد کی کھڑکی میں کھڑا ہو جاتا کہ اگر کوئی شخص گزر رہا ہو تو میری شکل سے پہچان کر مجھے کھانے کے لئے ساتھ لے چلے گا۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ میں مسجد کے دروازہ کے پاس کھڑا ہو گیا کہ شاید کوئی شخص میری شکل دیکھ کر ہی سمجھ لے کہ میں بھوکا ہوں۔ مگر لوگ آتے اور السّلامُ عَلَيْكُمْ کہہ کر آگے چل پڑتے اور کوئی شخص میرے وہاں کھڑا ہونے کی حقیقت کو نہ سمجھ سکتا۔ آخر جب میں نے دیکھا کہ خالی شکل دیکھنے سے لوگوں کو کوئی احساس پیدا نہیں ہوتا تو میں نے ایک اور طریق اختیار کیا۔ حضرت ابو بکر گزرے تو میں نے اُن سے پوچھا کہ قرآن کریم کی اس آیت کا کیا مطلب ہے کہ يُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبّهِ مِسْكِينَا وَ يَتِيمًا وَ أَسِيرًا 5 اس پر حضرت ابو بکر نے کھڑے ہو کر صدقہ پر ایک تقریر شروع کر دی اور کہا کہ مساکین کو کھانا کھلانا، بیتامی کی خبر گیری کرنا اور اسیروں پر احسان کرنا ایسے کام ہیں جن سے خدا تعالیٰ بہت خوش ہوتا ہے اور پھر آگے چلے گئے۔ جب وہ چلے گئے تو میں نے اپنے دل میں کہا کیا مجھے اِس آیت کے معنے نہیں آتے تھے ؟ میرا تو یہ مطلب تھا کہ آپ اس پر عمل بھی کریں۔ اس کے بعد حضرت عمر گزرے، حضرت عثمان گزرے اور میں نے ہر ایک سے یہی سوال کیا۔ لیکن