خطبات محمود (جلد 26) — Page 461
$1945 461 خطبات محمود ہی وقت میں بہت سے مقامات میں احمدیت کی آواز بلند کی جاسکتی ہے۔اگر ہمارے پاس کافی تعداد میں آدمی تیار ہو جائیں تو سارے ہندوستان میں منظم طور پر یہ تبلیغی سکیم جاری کی جاسکتی ہے۔اگر ہمیں انگریزی میں تقریر کرنے والے چھ سات آدمی مل جائیں اور ان کے ساتھ عربی دانوں اور ہندی دانوں کو ملا کر چھ گروپ بنادیئے جائیں تو بار بار سارے ہندوستان میں تقریریں ہو سکتی ہیں۔اور تھوڑے وقت میں بہت زیادہ کام سرانجام دیا جا سکتا ہے۔اور ہم ہندوستان کے ہر گوشہ میں اپنی آواز پہنچا سکتے ہیں۔اس طرح ہندوستان کے ہر بڑے شہر میں ہمارے مبلغین کو مجموعی طور پر سال میں قریباً تین ہفتے ٹھہرنے کا موقع مل جایا کرے گا۔پس جہاں میں نظارت دعوۃ و تبلیغ کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ اس قسم کی تبلیغ کا انتظام کرے وہاں میں نوجوانوں کو تحریک کرتا ہوں کہ وہ اپنی زندگیاں اس کام کے لئے وقف کریں اور خدمت دین کر کے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے مورد بنیں۔کسی کا یہ خیال کر لینا کہ موجودہ مبلغوں میں سے کسی مبلغ کو فارغ کر لیا جائے گا درست نہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے موجودہ مبلغوں میں سے کوئی بھی اس کام کے لئے فارغ نہیں کیا جا سکتا۔پہلے ہی مبلغین کے پاس اتنا کام ہے جو اُن کی طاقت سے بیسیوں گنا زیادہ ہے۔پھر پہلے مبلغین کا کام اور قسم کا ہے اور یہ کام اور قسم کا ہو گا۔بہر حال ہم پہلے مبلغوں میں سے کسی کو فارغ نہیں کر سکتے۔پس میں نوجوانوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی زندگیاں دین کی اشاعت کے لئے وقف کر کے رضائے الہی کے مستحق بنیں۔اس کے بعد میں ایک چھوٹی سی بات تجارت کے حصہ کے متعلق کہنا چاہتا ہوں۔وقف تجارت کے متعلق دفتر تحریک جدید میں سو کے قریب درخواستیں آچکی ہیں اور ان میں سے بعض لوگ گھبراگئے ہیں کہ ہمیں درخواست دیے ہوئے اتنی دیر ہو گئی ہے لیکن ابھی تک ہمیں بلایا نہیں گیا اور وہ بار بار اس کے متعلق خط لکھ رہے ہیں۔حالانکہ ایسے کام کے لئے بہت لمبے وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔آخر ان لوگوں کو ایسے علاقوں میں بھجوا دیا جن کے متعلق ہمیں کچھ بھی علم نہیں کہ وہاں کے حالات کیسے ہیں کس طرح درست ہو سکتا ہے۔بے شک وقف کرنے والے اپنی زندگی وقف کر دیتے ہیں لیکن ہمیں بھی تو عقل سے کام لینا چاہیے۔