خطبات محمود (جلد 26) — Page 426
1945ء 426 خطبات محمود کیا کوئی بھی کہہ سکتا ہے کہ جو شخص سترہ روپے کے لئے جان دے سکتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے لئے تجارت نہیں کر سکتا ؟ اگر اس میں ایمان کا ایک ذرہ بھی باقی ہے تو خدا تعالیٰ کو وہ کس منہ سے کہے گا کہ میں تجھ پر ایمان رکھتا ہوں۔ غرض اب تم پر حجت قائم ہو چکی ہے۔ جب تک یہ راستہ تمہارے سامنے نہیں آیا تھا تم کہہ سکتے تھے ہمیں اس کا خیال نہیں آیا لیکن اب تمہارا یہ عذر بھی ٹوٹ گیا ہے۔ اب خدا تعالیٰ تم سے کہے گا میں نے اپنے ایک بندے کے دل میں یہ خیال پیدا کر دیا تھا اور اُس نے تم کو اس سے آگاہ بھی کر دیا تھا۔ غرض اب تمہارے لئے کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ حقیقت کھل گئی ہے اور باطل کو کچلنے کے راستے خدا تعالیٰ نے ظاہر کر دیئے ہیں۔ اگر اب بھی کوئی آگے نہیں بڑھے گا تو وہ بزدل اور غدار ہو گا۔ چاہیے کہ تم میں سے ہر شخص آگے آئے اور اپنے اپنے رنگ میں اس بوجھ کو اٹھانے کے لئے تیار ہو جائے جس کے اٹھائے بغیر اسلام دوبارہ الفضل 20 / اکتوبر 1945ء) سر سبز و شاداب نہیں ہو سکتا۔“ 1: المائدة: 25 2 ترمذى أَبْوَابُ الْبِرِّ وَالصَّلَةِ بَابُ مَا جَاءَ فِي مُوَاسَاةِ الْآخِ ۔۔۔۔۔۔ الخ 3: تذکرۃ الشهادتین روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 67