خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 422 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 422

$1945 422 خطبات محمود زیادہ آمدن ہو تو یہ طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ہم نے پچھلے تیس سال میں قریباً پندرہ بیس گنا اپنی آمدن کو بڑھایا ہے۔فرض کرو ہم اس کو بہت زیادہ کریں تو پچاس یا سو سال میں جا کر ہم چوبیس کروڑ کی مرکزی آمدن پیدا کر سکیں گے کیونکہ قریباً نصف کے قریب آمد بلا دو ممالک میں خرچ ہو جاتی ہے) اور سو سال تک اتنے مبلغین کے لئے ہمیں انتظار کرنا پڑے گا۔لیکن اگر ہیں ہزار کنگال بھی اس تحریک پر کھڑے ہو جائیں۔یا کم سے کم پانچ ہزار آدمی کھڑے ہو جائیں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ جو کام ہم سو سال میں کر سکتے تھے۔اسے انشاء اللہ دو تین سالوں میں کر لیں گے۔یہ کتنی بڑی بات ہے اگر ایسا ہو اور ہم میں سے ہر فرد اس کی اہمیت کو سمجھے تو چند سالوں میں ہی حیرت انگیز تغیر پیدا ہو سکتا ہے۔جو پہلے سے تجارت کرنے والے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ ان کے لئے چندہ دے دینا کافی ہے۔بلکہ انہیں چاہیے کہ پندرہ ہیں یا تھیں نئے تاجروں کو اپنا پیشہ سکھائیں، اُن کی اخلاقی امداد کریں اور اگر ضرورت پڑے اور ہو سکے تو مادی امداد بھی کریں۔اس طرح صدقہ جاریہ کے طور پر وہ بہت بڑا ثواب حاصل کر سکتے ہیں۔میں حیران ہوں کہ ہمارے ہندوستان کے تاجروں میں یہ روح نہیں۔حالانکہ بیرونی ممالک میں یہ روح نمایاں طور پر پائی جاتی ہے۔افریقہ میں ایک شامی تاجر کو تحریک کی گئی ہم چاہتے ہیں تجارت کا سلسلہ وہاں شروع کریں۔مغربی افریقہ میں وہ ایک ہی احمدی تاجر ہیں انہوں نے تار کے ذریعہ اُسی وقت جواب دیا کہ آدمی فوراً بھیج دیں۔میں اپنی جائیداد میں اس کو حصہ دار بنانے کو تیار ہوں اور اُس کو اپنا حصہ دار بنانے کے لئے بھی آمادہ ہوں۔یہی روح ہے جو قوموں کو ترقی کی طرف لے جاتی ہے اور یہی روح ہے جو ہماری جماعت کے تاجروں میں ہونی چاہیے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس شکایت ہوئی کہ آپ نے فلاں مہاجر کو فلاں انصاری کے سپر د کیا تھا۔وہ اس سے کہتا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تم کو میر ابھائی بنادیا ہے تو اب تم ہر چیز میں میرے شریک ہو۔میری دو بیویاں ہیں تم ان میں سے جس کو چاہو پسند کر لو میں اس کو طلاق دے دیتا ہوں۔جائیداد بھی نصف نصف بانٹنے کے لئے تیار ہوں۔مگر وہ مانتا ہی نہیں۔2