خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 421 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 421

$1945 421 خطبات محمود کانپ رہے تھے کہ کتنا روپیہ میرے سپرد کیا جا رہا ہے مگر اب خدا تعالیٰ نے انہیں سینکڑوں روپیہ چندہ دینے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔تو انسان بہت تھوڑے پیسوں سے تجارت شروع کر سکتا ہے۔بشر طیکہ اُس میں قربانی کی عادت ہو۔قادیان میں دسیوں آدمی ایسے ہیں جو شاید شرما کر اپنی پہلی حالت بیان نہ کریں۔لیکن واقع یہ ہے کہ گو وہ اب سات سات آٹھ آٹھ ہزار روپیہ کی جائیدادیں اپنے پاس رکھتے ہیں۔لیکن انہوں نے چند آنوں سے کام شروع کیا تھا۔ایک دوست ہیں جن کی اب ہیں پچیس ہزار کی جائیداد ہو گی ان کا مکان بھی ہے زمین بھی۔انہوں نے چھ آنوں سے میرے سامنے کام شروع کیا تھا۔پس یہ کام اس طرح کا ہے کہ اس میں بغیر روپے اور بہت تھوڑی محنت کے ساتھ انسان بڑی کمائی کر سکتا ہے۔جو آدمی تجارت شروع کرتا ہے پہلے وہ اپنی مزدوری کا کمایا ہوا کھاتا ہے۔پھر تجارت کی کمائی کھاتا ہے۔پھر تجارت کا کمایا ہوا جمع کرتا چلا جاتا ہے اور اسے نفع ہی نفع رہتا ہے۔غرض ہیں ہزار تاجر ہندوستان کے مختلف حصوں میں بھجوانا کوئی مشکل کام نہیں۔اگر انگریزوں کی لڑائی میں ہمارے پندرہ سولہ ہزار نوجوان چلے گئے ہیں تو کیا خدا تعالیٰ کی لڑائی میں پانچ ہزار نوجوانوں کا جانا مشکل ہے؟ ( کیونکہ ابھی میرا پانچ ہزار کا مطالبہ ہے) اور پھر ایسے رنگ میں جب کہ تم اپنی جماعت کا مستقبل شاندار بنانے کی کوشش کرو گے تو تم خود کھاؤ گے ، دین کے لئے چندہ دو گے اور اپنے رشتہ داروں کو بھی کھلاؤ گے۔پس ہماری جماعت کے لئے موجودہ زمانہ کے حالات کے لحاظ سے پچاس سال تک بھی ہیں ہزار مبلغ کا خیال کرنا نا ممکن ہے لیکن میں ہزار تاجر بھیجنا کوئی مشکل کام نہیں۔میں نے بتایا تھا کہ ہند وستان سے باہر اگر ہم تبلیغ کو مد نظر رکھیں تو اس کے لئے کم سے کم پانچ سو روپے ماہوار فی مبلغ ہمیں خرچ کرنا پڑے گا۔بلکہ در حقیقت اگر ہزار روپیہ ہو تو کام اچھی طرح چل سکتا ہے۔کیونکہ صرف مکان کا کرایہ ہی وہاں تقریباً تین چار سو روپیہ دینا پڑتا ہے۔اگر پانچ سو روپیہ فی کس ہی رکھیں تو ہیں ہزار مبلغوں کے رکھنے کے معنے یہ ہوں گے کہ ایک کروڑ روپیہ ماہوار اور بارہ کروڑ روپیہ سالانہ خرچ ہو گا۔یہ کم سے کم اندازہ ہے۔پھر ان کے آگے جانے کا کرایہ بھی ہو گا۔اس طرح بیس ہزار مبلغوں کے لئے در حقیقت چوبیس کروڑ روپیہ سالانہ یعنی ہماری موجودہ آمدن سے دو سو گنے