خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 396

$1945 396 خطبات محمود اس لئے اسلام عیسائیت جیسے مردہ مذہب کے مقابلہ میں شکست کھا گیا۔اور اگر دلائل بھی مہیا ہو جائیں اور بعض نے مہیا کئے بھی تو دوسری چیز مبلغ ہوتے ہیں اور مبلغین سے اسلام خالی تھا۔پھر اگر چند مبلغ تھے تو بد عمل تھے۔دنیا کی نگاہ دلائل کو ہی نہیں دیکھا کرتی بلکہ عمل کو بھی دیکھتی ہے۔یہ درست ہے کہ دین خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کے لئے آتا ہے، یہ بھی درست ہے کہ دین کا تعلق انسان کی روحانی اصلاح کے ساتھ ہوتا ہے۔مگر اس میں بھی شبہ نہیں کہ انبیاء جب کبھی دنیا میں پیدا ہوئے ہیں تو دین کو ماننے والے لوگوں کے حالات دینی طور پر ہی درست نہیں ہوئے بلکہ دنیوی طور پر بھی درست ہو گئے۔ہم دیکھتے ہیں حضرت نوح علیہ السلام دین کو قائم کرنے کے لئے آئے اور ان کے ذریعہ ایک نیا نظام قائم ہوا۔جب حضرت موسیٰ علیہ السلام آئے تو ان کے ذریعہ ایک نیا نظام قائم ہوا۔جب حضرت داؤد علیہ السلام آئے تو ان کے ذریعہ ایک نیا نظام قائم ہوا۔جب حضرت عیسی علیہ السلام آئے تو ان کے ذریعہ ایک نیا نظام قائم ہوا۔جب حضرت زرتشت علیہ السلام آئے تو ان کے ذریعہ ایک نیا نظام قائم ہوا۔حضرت کرشن علیہ السلام آئے تو ان کے ذریعہ ایک نیا نظام قائم ہوا۔اور سب سے آخر سب نبیوں کے سردار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو اُن کے ذریعہ ایک نیا نظام قائم ہوا۔انہوں نے بنی نوع انسان کو خدا تعالیٰ سے ہی نہیں ملایا اور روحانیت کو ہی درست نہیں کیا بلکہ اس کے ساتھ لازمی نتیجہ کے طور پر، طبعی نتیجہ کے طور پر اور عقلی نتیجہ کے طور پر آپ کی جماعت دنیا میں بھی ترقی کر گئی۔دنیا میں نبی آتے ہیں تو دنیوی نظام کی ترقی کے لئے کیا کہتے ہیں ؟ یہی کہ اپنے کھانے پینے کی طرف زیادہ توجہ نہ کرو، اپنے وقتوں کو ضائع نہ کرو، اپنے دماغوں کو ضائع نہ کرو، لہو و لعب میں اپنا وقت نہ لگاؤ، جہالت اور تاریکی سے دور بھاگو اور یہی چیزیں دنیوی ترقی کے لئے بھی ضروری ہیں۔جس قوم میں یہ چیزیں پیدا ہو جائیں وہ لازمی طور پر دنیا میں ترقی کر جاتی ہے۔جو بھی کہے گاستی نہ کرو، جہاد کا موقع آئے تو اپنے آپ کو آگے پیش کرو۔جہاد تو ہر وقت نہیں ہو تا۔مگر طالب علم کے لئے پڑھائی کا موقع ہر وقت ہوتا ہے۔جو جہاد کے موقع پر اپنے آپ کو پیش کرے گاوہ پڑھائی کے وقت بھی کسی سے پیچھے نہیں ہو گا۔جب نبی کہے گا تم جہالت سے دور رہو، محنت کرو تو لازمی بات ہے کہ وہ جہاد