خطبات محمود (جلد 26) — Page 388
1945ء 388 خطبات محمود نہیں ہوتی۔ دنیا اس کو آگ میں پھینک کر کیا کرے گی، اُس کے بیوی بچوں کو اس سے چھین کر کیا کرے گی، اس کے عزیز و اقارب کو اس سے چھڑا کر کیا کرے گی، اس کو مار کر یا قتل کر کے کیا کرے گی، کیونکہ وہ تو ہر تکلیف میں لذت محسوس کرے گا۔ وہ دکھ اسے دکھ دکھائی نہیں دیں گے بلکہ خدا تعالیٰ کے لئے وہ ان کو آرام اور راحت سمجھے گا۔ جب وہ ہر دکھ کو اپنے لئے سکھ سمجھے گا تو یہ آگ اس کے لئے جنت ہوتی چلی جائے گی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مومن کی علامت یہ ہوتی ہے کہ ہر دوزخ اس کے لئے جنت بن جاتی ہے۔ جب کبھی خدا تعالیٰ کے راستہ میں اسے کوئی صدمہ آتا ہے تو وہ اسے بجائے رنج پہنچانے کے اس کے لئے آرام کا موجب ہو جاتا ہے۔ اور وہ کہتا ہے اس سے بہتر کیا چیز ہو گی۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیالکوٹ سے واپس آرہے تھے تو لوگوں نے آپ پر پتھر پھینکے۔ جب آپ گاڑی میں سوار ہو ۔ ہو گئے لوگوں نے وہاں بھی پتھر پھینکے لیکن گاڑی میں تو وہ زیادہ نقصان نہ پہنچا سکے اور نہ ہی ایسا کر سکتے تھے لیکن جب لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو چھوڑ کر واپس آرہے تھے تو انہیں لوگوں نے طرح طرح کی تکالیف دینی شروع کیں اور دق کیا۔ مولوی برہان الدین صاحب انہی میں سے ایک تھے۔ جب وہ واپس جارہے تھے تو کچھ غنڈے اُن کے پیچھے ہو گئے اور اُن پر گند وغیرہ پھینکا۔ آخر بازار میں اُن کو گر الیا اور ان کے منہ میں گوبر ڈالا۔ دیکھنے والوں نے بعد میں بتایا کہ جب مولوی برہان الدین صاحب کو جبراً پکڑ کر اُن کے منہ میں زبردستی گوبر اور گند ڈالنے لگے تو انہوں نے کہا الْحَمْدُ لِلهِ ایہہ نعمتاں کتھوں۔ مسیح موعود نے روز روز آنا وے؟ یعنی اَلْحَمْدُ لِلهِ یہ نعمتیں انسان کو خوش قسمتی سے ہی ملتی ہیں۔ کیا مسیح ، مسیح موعود جیسا انسان روز روز آسکتا ہے کہ انسان کو ہمیشہ ایسا موقع ملے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے دوزخ پیدا کی ہی نہیں جا سکتی کیونکہ خدا تعالیٰ نے ان کو ایسا بنا دیا ہے کہ ان کی برکات کی وجہ سے ہر دوزخ ان کے لئے برکت بن جاتی ہے اور راحت کا موجب ہوتی ہے۔ تو يُنَارُ كُونِی بَردا کے ایک یہ بھی معنی ہیں کہ ابراہیم ایسے مقام پر کھڑا ہوا تھا کہ ہم نے فیصلہ کر دیا تھا کہ ہماری راہ میں اس کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔ اس کا ایمان اتنا مضبوط ہے کہ جو بھی تکلیف کوئی مخالف پہنچائے گا اسے خوشی سے قبول کرے گا اور خوش ہو گا کہ اسے ر