خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 382

1945ء 382 خطبات محمود شریک کرلے گا۔ لیکن وہ جنہوں نے کہا اِذْهَبُ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا فَعِدُونَ اللہ تعالیٰ کبھی پسند نہیں کرے گا کہ ایسے ناپاک لوگ اس کی تخت نشینی میں شامل ہوں اور ان کے ناپاک ہاتھ اس کے سر پر تاج رکھیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا دُور کرو ان ناپاک ہاتھوں کو میں ان کے ذریعے اپنی تخت نشینی نہیں چاہتا۔ تمہارے دل میں میری کوئی وقعت نہیں تھی۔ پس اللہ تعالیٰ اپنی تخت نشینی اس شخص کے ہاتھ سے کرائے گا جو آج اسلام کا شیخ الاسلام ہے، جس کے دل میں اسلام کا درد ہے اور جو دن اور رات اس فکر میں رہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہت جلد دنیا میں قائم ہو۔ جب موجودہ بادشاہ کے والد کی تاج پوشی کی رسم دہلی میں ادا کی گئی۔ تو میں اُس وقت بچہ ہی تھا۔ جب بادشاہ دربار میں آیا تو ایک بہت بڑا رئیس تھا جسے بادشاہ کی آمد کا اعلان کرنے پر مقرر کیا گیا تھا۔ وہ بگل کبھی اِدھر منہ کر کے بجاتا اور کبھی دوسری طرف۔ اور جب وہ صاحب اس طرح بادشاہ کی آمد کا اعلان کرتے تھے تو دوسرے رؤساء ان پر رشک کرتے تھے کہ کتنا عزت کا کام ان کے سپرد کیا گیا ہے۔ حالانکہ عام حالات میں بگل بجانا کوئی عزت کی چیز نہیں سمجھی جاتی۔ لیکن بادشاہ کی تخت نشینی پر ٹرمپیٹر (Trumpeter) ہونا بڑی عزت کی چیز سمجھا جاتا ہے۔ اگر دنیا کے بادشاہوں کے ٹرمپیٹر کی یہ عزت ہوتی ہے تو خدا تعالیٰ کی بادشاہت کا ٹرمپیٹر ہونا کتنا عزت کا مقام ہے۔ مگر ہر شخص اس کا مستحق نہیں ہو سکتا۔ یہ اعزاز بھی انہی لوگوں کے سپرد ہو گا جو اپنے آپ کو اس کا مستحق ثابت کریں گے اور اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو اسلام اور احمدیت کے لئے فنا کر دیں گے۔ پس پہلے استحقاق پیدا کرو تا اللہ تعالیٰ یہ کام تمہارے سپرد کر دے۔ غرض ہماری جماعت کو اپنے اندر ایسا تغیر پیدا کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی تخت نشینی کا ٹر مپیٹر مقرر کر دے۔ آج اللہ تعالیٰ شیخ الاسلام یا آرچ بشپ کا عہدہ اسی کو دے گا جس کے متعلق وہ یہ سمجھے گا کہ یہ میرا دیوانہ عاشق ہے۔ اور اپنی تخت نشینی کے وقت ٹرمپیٹر کا عہدہ انہی لوگوں کے سپرد کرے گا جو اس وقت خدا تعالیٰ کے لئے اپنے دل کی آواز تک کو دبا دیتے ہیں اور جن کی نسبت اللہ تعالیٰ قرار دے گا کہ وہ اس کی تخت نشینی کے اعلان