خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 379 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 379

1945ء 379 خطبات محمود کے مرنے کی خبر دی میں اُسے مار ڈالوں گا۔ اور اگر کسی نے بھی اطلاع نہ دی تو سب کو مروا ڈالوں گا۔ ڈاکٹر اور نو کر سب اس حکم سے گھبراگئے اور گھوڑے کا علاج پوری محنت سے کرتے رہے لیکن آخر گھوڑا مر گیا۔ جب گھوڑ ا مر گیا تو سب گھبر ائے کہ اب کون گھوڑے کی موت کی خبر بادشاہ کو دینے جائے۔ جو جائے گا اُس کی جان کی خیر نہیں۔ اور اگر کوئی بھی نہ جائے تو سب مارے جائیں گے۔ وہ ایک دوسرے ے کو آمادہ کرتے لیکن کوئی تیار نہ ہوتا۔ آخر بہت سوچ بچار کے بعد اطلاع پہنچانے کے لئے انہوں نے بادشاہ کے ایک منہ چڑھے نوکر کو چنا۔ پہلے تو اس نے لیت و لعل کیا لیکن آخر تمام نو کروں کے سمجھانے پر وہ مان گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ عقلمند بھی تھا۔ جب وہ بادشاہ کے پاس اطلاع لے کر گیا تو بادشاہ نے اُسے دیکھتے ہی کہا۔ اتنی دیر کیوں لگائی ہے؟ کہو گھوڑے کے متعلق کیا خبر لائے ہو ؟ اُس نے کہا حضور بالکل آرام ہے۔ بادشاہ نے پھر پوچھا۔ کیا واقع میں آرام میں ہے ؟ اس نے کہا۔ حضور گھوڑا بالکل آرام سے زمین پر لیٹا ہوا ہے اُسے بالکل درد نہیں، نہ وہ چیخیں مارتا ہے نہ دُم ہلاتا ہے، نہ کان ہلا تا ہے، نہ اُس کا پیٹ ہلتا ہے۔ آنکھیں بھی بند ہیں اور بالکل آرام سے لیٹا ہوا ہے کوئی حرکت نہیں کرتا۔ بادشاہ نے کہا اس کا تو یہ مطلب ہے کہ گھوڑا مر گیا ہے۔ اس نے کہا حضور ہی کہتے ہیں میں تو نہیں کہتا۔ تو الفاظ بدل لینے سے کیا بنتا ہے۔ منہ سے بے بے شک نہ کہا۔ اِذْهَبْ أَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا قُعِدُونَ ۔ لیکن جس نے اپنے عمل سے ایسا ہی نمونہ دکھایا تو وہ منہ سے کہنے والے سے کم نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک برابر ہیں۔ ہم کہتے ہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وہ ساتھی بڑے گندے تھے جنہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہہ دیا تھا کہ جاتو اور تیر ارب جا کر لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں۔ لیکن اگر ہم اپنے اعمال سے وہی ثابت کرتے ہیں جو انہوں نے منہ سے کہا تھا تو وہ گالیاں ان کو نہیں لگتیں ہم کو لگتی ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ دلوں کی حالت کو دیکھتا ہے اور ارادوں اور نیتوں سے خوب واقف ہے۔ اگر ایک شخص اسلام کے لئے اپنی زبان بھی نہیں ہلاتا اور آرام سے گھر میں لیٹا رہتا ہے اور دل میں خوش ہوتا ہے کہ اسے قربانی نہیں کرنی پڑتی۔ بے شک اسلام کو ضعف پر ضعف پہنچے ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت خطرہ میں ہو لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں کو