خطبات محمود (جلد 26) — Page 365
خطبات محمود کے وقت میں ہوا۔ 365 1945ء یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ آدم کسی ایک خاص وجود کا نام نہیں بلکہ ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مختلف انسان اس مقام پر فائز کئے جا چکے ہیں اور کئے جاتے ہیں۔ مثلاً سید عبد القادر صاحب جیلانی بھی اُن لوگوں میں سے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے آدم کے مقام پر کھڑا کیا تھا۔ ان کے متعلق لکھا ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیر ا پاؤں تمام اولیاء کی گردن پر ہے۔ جب دوسرے لوگوں نے سنا کہ ان کو یہ الہام ہوا ہے کہ تیر ا پاؤں تمام اولیاء کی گردن پر ہے تو ایک بزرگ نے سن کر کہا کہ اس کا پاؤں ہماری گردنوں پر ؟ کیوں ؟ وہ کوئی خدا تعالیٰ کا نے کر خاص لاڈلا ہے کہ اس کا پاؤں ہماری گردنوں پر ہو۔ خدا تعالیٰ کو ان کی اس بات سے غیرت آئی اور ان کے ایمان میں کمزوری اور خرابی ہونی شروع ہو گئی۔ آخر وہ ایک عیسائی عورت پر عاشق ہو گئے اور اس کے مکان کے سامنے ڈیرا ڈال دیا۔ اُس عورت نے اُن کے سامنے یہ شرط پیش کی کہ پہلے تم عیسائیت قبول کرو پھر میں تم سے شادی کروں گی۔ لیکن چونکہ ان کے اندر ابھی کچھ ایمان باقی تھا اس لئے وہ عیسائیت اختیار کرنے کے لئے تیار نہ ہوئے۔ پھر اس نے کہا اگر یہاں رہنا ہے تو کوئی کام کیا کرو ورنہ یہاں سے چلے جاؤ۔ اور کچھ دنوں بعد اُس نے سور پالنے کا کام ان کے سپر د کر دیا۔ وہ سور چرانے کے لئے ہر روز جنگل میں جاتے۔ ایک دن ایک سوزنی نے بچہ دے دیا۔ وہ ڈرے کہ اگر بچہ مر گیا تو وہ ناراض ہو گی اس لئے انہوں نے بچے کو اپنی گردن پر اٹھا لیا اور گھر کو چل پڑے۔ راستے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا کہ اچھا اگر عبد القادر کا پاؤں اپنی گردن پر نہیں رکھتے تو پھر سور کا پاؤں اپنی گردن پر رکھ لو۔ یہ سن کر ان کی آنکھیں کھل گئیں۔ انہوں نے بچہ وہیں پھینک دیا اور واپس چلے آئے اور بہت توبہ واستغفار کیا۔ تو اللہ تعالیٰ کے اس بندے کا انکار کرنے کی وجہ سے جو مقام آدم پر کھڑا ہو ملکوتی صفات کے انسان بھی شیطان صفت ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے کہہ دیتا ہے اگر تم آدم کے ہاتھ پر جمع نہیں ہوتے تو شیطان کے ہاتھ پر جمع ہو گے۔ اور اس کا پاؤں تمہارے سر پر ہو گا۔ غرض ملک بھی رشک ہیں کرتے وہ خوش نصیب ہوں میں