خطبات محمود (جلد 26) — Page 29
خطبات حمود 29 +1945 ہماری جماعت مذہبی جماعت ہے اور ہمارا کام سیاسی خیالات کو تقویت دینا نہیں بلکہ یہ ہے کہ اگر سیاست کے خیالات ہمارے دل میں پیدا ہوں تو ان کو کچل دیں۔مگر ہم پر بھی یہ اختلافات اثر انداز ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ہماری جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے۔ایک طرف سے مجھے خط آتا ہے کہ بعض لوگ آتے اور ہم پر زور دیتے ہیں کہ مسلم لیگ میں شامل ہو جاؤ۔بتائیں ہم کیا جواب دیں؟ اور دوسری طرف سے خط آتا ہے کہ سرکاری افسر بلاتے ہیں وزراء آتے ہیں اور زور دیتے ہیں کہ زمیندارہ لیگ میں شامل ہو جاؤ۔ہم ان کو کیا جواب دیں؟ گویا ہم سیاسیات سے بھاگتے ہیں اور سیاسیات ہماری طرف بھاگی آتی ہیں۔بعض دفعہ انگریز حکام نے مجھ سے کہا ہے کہ آپ کی جماعت کو سیاسیات سے کیا واسطہ؟ کشمیر کی تحریک کے دنوں میں لارڈ ولنگڈن نے خود مجھے کہا کہ آپ کی جماعت مذہبی ہے آپ کو سیاسیات سے کیا واسطہ ہے ؟ اور اس میں شک نہیں کہ ہماری جماعت مذہبی جماعت ہے اور خدا کرے کہ ہماری تو جہات اور کسی طرف نہ پھریں۔ہم اگر کسی اور طرف متوجہ ہوں تو یہ بہت بڑی کمزوری ہو گی۔بلکہ بڑی غداری اور بے ایمانی ہو گی اگر ہم اپنی تو جہات کو کسی اور طرف پھیریں۔مگر ہم اس بات کا کیا علاج کریں کہ ہم بھی اسی دنیا میں رہتے ہیں۔اور ہماری مثال وہی ہے جو کہتے ہیں کہ دو آدمی نہر کے کنارے جارہے تھے ایک نے کہا وہ دیکھو کسی کا کمبل نہر میں گر گیا ہے اور بہتا جارہا ہے۔دوسرے نے اسے پکڑنے کے لئے نہر میں چھلانگ لگا دی کہ اسے لے آئے۔مگر اس کی بد قسمتی سے وہ کمبل نہ تھا بلکہ سردی سے ٹھٹھر اہوار کچھ تھا جو بہا جارہا تھا اور اس کی کھال تھی جسے کمبل سمجھ لیا گیا۔اس آدمی نے جب اسے پکڑ کر کھینچنا چاہا تو بجائے اس کے کہ وہ اُس کی طرف کھنچتا ریچھ نے اسے اپنی طرف کھینچنا شروع کر دیا۔جب دیر ہو گئی تو اس کے ساتھی نے آواز دی کہ اگر کمبل نہیں کھینچا جاتا تو اسے چھوڑ دو اور واپس آجاؤ سفر خراب ہوتا ہے۔اس پر اس ساتھی نے کہا کہ میں تو کمبل کو چھوڑتا ہوں مگر کمبل مجھے نہیں چھوڑتا۔یہی حالت ہماری ہے ہم تو سیاسیات کو چھوڑتے ہیں مگر وہ ہمیں نہیں چھوڑتیں۔ہمارے آدمی مختلف مقامات پر رہتے ہیں کبھی مسلم لیگ والے آکر ان کی گردن پکڑتے اور کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ مل جاؤ اور کبھی زمیندارہ لیگ والے آکر ان کو کھینچتے ہیں کہ ہم میں