خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 339 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 339

+1945 339 خطبات محمود اُس کی قوم نے جو قربانیاں کی ہیں وہ کتنی حیرت انگیز ہیں۔یہ اور بات ہے کہ اس کے مقابل پر جو طاقتیں تھیں وہ اس سے زیادہ زبر دست تھیں اور اس وجہ سے وہ شکست کھا گیا۔یا یہ سمجھ لو کہ اُس نے خدا تعالیٰ کے غضب کو اپنے اوپر بھڑ کا لیا۔لیکن جہاں تک دنیوی لحاظ سے قربانیوں کا تعلق ہے اُس نے حیرت انگیز کام کیا۔اسی طرح نپولین اور تیمور بھی دنیا کے غیر معمولی انسانوں میں سے ہیں۔اور یہ لوگ انسانوں میں سے عجیب قسم کی مثالیں ہیں۔ان کے کاموں سے پتہ لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر کتنی عظیم الشان طاقتیں محفوظ رکھی تھیں۔ہٹلر کا سب سے بڑا اندازہ جو تھا وہ ایک ہزار سال کا تھا لیکن ہٹلر کے علاوہ جو دوسرے بڑے بڑے لیڈر گزرے ہیں اُن کا اندازہ صرف سو سال یا دو سو سال کا تھا۔اور وہ چاہتے تھے کہ سوسال کے لئے یا دو سو سال کے لئے اپنی قوم کو بلند کر جائیں۔اتنے تھوڑے عرصہ کے لئے انہوں نے ایسی ایسی قربانیاں کی ہیں جو انسان کو محو حیرت بنا دیتی ہیں۔مثلاً تیمور کو ہی دیکھو۔کہا جاتا ہے کہ بعض جگہ اس کے مردوں کی لاشیں جمع کی گئیں تو وہ ایک ٹیلہ بن گیا۔یہ قربانیاں اُس نے کس لئے کیں؟ صرف اس لئے کہ اس کی قوم کچھ عرصہ کے لئے دنیا میں بلند ہو جائے اور اُس کی قوم کو عزت کی نظر سے دیکھا جائے۔لطیفہ مشہور ہے کہ تیمور ایران کو فتح کرتا ہوا جب شیر از پہنچا تو اس نے خواجہ حافظ کو بلا کر پوچھا کہ کیا یہ شعر آپ کا ہے؟۔اگر آں ترک شیرازی بدست آرد دل ما را بخال هندوش بخشم سمرقند و بخارا را حافظ نے کہا ہاں میرا ہے۔تیمور نے کہا تم بھی عجیب آدمی ہو۔میں نے تو دنیا میں قتل و غارت کر کے لاشوں کے ڈھیر لگا دیئے ہیں محض اس لئے کہ سمر قند و بخارا کو عزت ملے اور تم ہو کہ اپنے معشوق کے ایک خال 1 پر سمر قند و بخارا دینے کو تیار ہو گئے ہو۔تو سمر قند و بخارا کو عزت دینے اور اس کا نام بلند کرنے کے لئے تیمور نے لاشوں کے ڈھیر لگا دیئے۔اس نے اپنی جان کی پروا نہ کی۔اس نے اپنی قوم کی جان کی پروا نہ کی اور یہ سب کچھ اس لئے کیا کہ کچھ عرصہ کے لئے اُس کی قوم کو عزت حاصل ہو جائے۔مگر کتنے عرصے تک اُس کی قوم کے پاس