خطبات محمود (جلد 26) — Page 330
+1945 330 خطبات محمود تو یقینی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ اس کا فیصلہ کر چکا ہے۔اب ہمارا کام ہے کہ ہم بھی فیصلہ کر لیں کہ خدا تعالیٰ ہم میں جو تبدیلی پیدا کرنا چاہتا ہے اس کے مطابق ہم اپنے آپ کو ڈھالیں گے۔جس طرح خدا ہم میں تبدیلی پیدا کرتا چلا جائے گا اُسی طرح ہم تبدیل ہوتے چلے جائیں گے اور چونکہ یہ کام خدا تعالیٰ کے فیصلہ کے مطابق ہو گا اس لئے ہماری کامیابی میں کوئی شبہ ہی نہیں ہو سکتا۔دنیا میں لوگوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ محض خیالی باتوں سے ہی خوش ہو جاتے ہیں اور اپنی کامیابی کی خواہیں دیکھنی شروع کر دیتے ہیں۔ہٹلر کو دیکھو اسے تمام دنیا فتح کرنے کا خیال تھا۔حالانکہ دنیا کی تمام بڑی بڑی سلطنتیں اُس کے خلاف تھیں۔اس کے پاس کچھ فوج تھی اور کچھ سائنس دان تھے مگر اتنی سی بات پر اُس نے سمجھ لیا کہ میں جیت جاؤں گا۔اسی طرح جاپان کیا تھا؟ ایک مردہ اور اپنے ملک سے نہ نکلنے والی قوم تھی۔مگر چالیس سال کے اندراس میں بیداری پیدا ہوئی اور اس قوم کے افراد نے تھوڑی سی بیداری سے یہ سمجھ لیا کہ ہم ساری دنیا کو مٹادیں گے ، سارے ایشیا کو غلام بنالیں گے۔اس نے خیال کیا کہ ہماری دو چار میٹھی باتوں سے لوگ سمجھیں گے کہ ہم ان کو آزاد کرانے آئے ہیں اور ہمارے عملوں کو دیکھ کر کوئی یہ خیال نہیں کرے گا کہ ہم انہیں غلام بنانے آئے ہیں۔جب لوگ اتنے چھوٹے چھوٹے واقعات پر اتنی امیدیں باندھ لیتے ہیں تو ہماری کتنی بد قسمتی ہو گی کہ ہم اپنی کامیابی کی امید نہ رکھیں جبکہ خدا تعالیٰ اس کامیابی کا فیصلہ کر چکا ہے۔اب ہمارا کام ہے کہ ہم بھی اپنے اندر تغیر پیدا کرنے کا فیصلہ کر لیں۔جب خدا کا فیصلہ اور مومنوں کا فیصلہ دونوں اکٹھے ہو جائیں تو پھر کوئی طاقت ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔پس اب کامیابی کا تمام تر انحصار ہمارے اپنے فیصلہ پر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ کوئی اندھا تھا وہ کچھ ساتھیوں سمیت ایک سرائے میں ٹھہرا اور کسی ساتھی کے ساتھ باتیں کرنے لگا۔باتیں کرتے کرتے بہت رات ہو گئی۔ایک اور شخص حافظ کی باتیں سن سن کر تنگ آ گیا اور کہا حافظ جی! بہت رات ہو گئی ہے اب سو جائیں۔حافظ جی نے جواب دیا سونا کیا ہے چُپ ہی ہو رہنا ہے۔یعنی سونا نام ہے آنکھیں بند کر لینے اور چپ ہونے کا۔آنکھیں تو پہلے ہی بند ہیں اب صرف زبان ہی کو روکنا ہے۔جس طرح سونا نام ہے خاموش ہو جانے کا اور آنکھیں بند کر لینے کا اِسی