خطبات محمود (جلد 26) — Page 316
+1945 316 خطبات محمود (جب ایک قانون بنا دیا جائے تو غلط اور صحیح کا فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے ) اگر اس جنگ کے بعد کوئی اور ملک فاتح ہوا اور انگلستان یا امریکہ یا روس ان تینوں میں سے کوئی مفتوح ہوا تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ فاتح قوم ان کے آدمیوں کو بھی پکڑ پکڑ کر پھانسی دینے لگ جائے گو اس میں شبہ نہیں کہ جرمنی، اٹلی اور جاپان کا قصور ہے لیکن میرے نزدیک یہ طریق بھی پسندیدہ نہیں کہلا سکتا کہ بغیر کسی خاص دلیل کے جس کی وجہ سے عقل و انصاف ایک جنگی قیدی کو بھی سزاد ینے کا فیصلہ کریں۔دو جنگی قیدیوں کو سزادی جائے اگر ایسا ہو تو آئندہ بہت سے خطرات کا رستہ کھلنے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔نیز اس سے مزید جنگوں کا رستہ کھل جانے کا بھی خطرہ ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ کسی جنگ کے بند ہونے سے لوگ یہ نہیں سمجھیں گے کہ خونریزی بند ہو گئی ہے بلکہ یہ سمجھیں گے کہ ایک قسم کی خونریزی تو بند ہوئی ہے لیکن دوسری قسم کی خونریزی شروع ہو گئی ہے۔جرمنی کے لوگوں کا یہ مجرم قرار دیا جاتا ہے کہ انہوں نے لندن کے سنتے آدمیوں پر گولے پھینکے۔جرمنوں نے یقیناً ظلم کیا، انسانیت کے خلاف حرکت کی اور ان کے اس فعل کو جس قدر بھی بُرا کہا جائے کم ہے اور خدا تعالیٰ نے ان کے جرم کی سزا بھی اُن کو دے دی کہ اُن کا غرور خاک میں مل گیا۔لیکن یہ امر بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جرمنوں نے جو گولے پھینکے وہ سو سو گز یا اس سے کچھ زیادہ تک اثر رکھتے تھے اب اگر اتحادی ان کے مقابل پر اس سے زیادہ مار کرنے والے بم ان پر پھینکیں اور ان کی طرح ہی ان آدمیوں پر پھینکیں جو بہتے ہوتے ہیں تو یہ فعل بھی ویسا ہی بُرا سمجھا جائے گا جیسا کہ ان کا تھا۔اسی طرح جنگی قیدیوں کا سوال ہے دنیا میں یہ تسلیم شدہ قاعدہ ہے کہ انسان ان لوگوں اس خطبہ کے بعد ایک اعلان شائع ہوا ہے جس میں ان مجرموں کی اقسام بیان کی گئی ہیں جن کو سزا دی جائے گی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگی مجرم کی خاص تعریف کی گئی ہے۔گو مجھے اس تعریف سے پوری طرح اتفاق نہیں لیکن یہ ضرور ہے کہ ایسی تعریف سے اکثر وہی سزا پائیں گے جن کو عقل اور انصاف سزا دینا چاہتے ہیں۔اور یقیناً جنگی قیدی بھی ایسے ہو سکتے ہیں کہ جو سزا کے مستحق ہوں۔اس امر کی صحت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔