خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 281

$1945 281 خطبات محمود کہ جیسے بچہ سوال کرتا چلا جاتا ہے اور کہتا ہے اماں! یہ کیا ہے ؟ وہ کیا ہے ؟ اسی طرح صحابہ سوال چلے جاتے تھے۔آخر یہ جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یاَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْلُوا عَنْ أشْيَاء إِن تُبدَ لَكُمْ تَسُؤْكُم 4 یعنی اے مومنو! تم ان باتوں کے متعلق سوال نہ کیا کرو جو اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہارے لئے تکلیف کا موجب بن جائیں۔تو کیا اس سے یہ معلوم نہیں ہو تا کہ صحابہ کرام کثرت سے سوال کیا کرتے تھے ؟ لیکن جیسے بچہ جب سوال کرنے میں حد سے بڑھ جاتا ہے تو اُس کو روکا جاتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے صحابہ کو سوالات کی زیادتی سے روکا۔لیکن اس بات سے پتہ لگتا ہے کہ بچپن کا زمانہ صحابہ پر پوری طرح آیا اور انہوں نے اس سے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔چنانچہ اموال کو خرچ کرنے کا سوال آیا تو انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ہم اسکے متعلق سب کچھ جانتے ہیں بلکہ وہ فورار سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور پوچھا کہ يَا رَسُولَ اللہ ! ہم اپنے اموال کو کس طرح خرچ کریں ؟ ساری دنیا کھانا کھاتی ہے مگر صحابہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہایا رَسُولَ اللہ ! کونسی چیز حلال اور کون سی حرام ہے؟ دنیا میں یتیم پائے جاتے ہیں مگر صحابہ کو اُن کا بھی احساس ہوا اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور عرض کیا کہ یتامی کے بارے میں کیا احکام ہیں؟ غرض صحابہ سوالات پوچھتے چلے گئے۔اور جو پوچھنے کے عادی نہ تھے وہ پوچھنے والوں کے ساتھ چمٹ گئے۔جیسے حضرت ابوہریرہ خود نہیں پوچھتے تھے لیکن سارا دن مسجد میں پڑے رہتے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنتے رہتے تھے۔رض پھر شباب کا دور آیا تو ہم دیکھتے ہیں کہ اِس دور میں بھی صحابہ کرام نے وہ قوت عملیہ دکھائی کہ دوسری اقوام میں اس کی مثال نہیں ملتی۔اس چھوٹی سی قوم نے تھوڑے عرصہ میں ہی بڑی بڑی سرکش حکومتوں کو کچل کر رکھ دیا۔عرب کی آبادی اس وقت پچاس ساٹھ لاکھ کے قریب ہے اور میرا اندازہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عرب کی آبادی دس لاکھ سے زیادہ نہ تھی۔دس لاکھ کے معنے یہ ہیں کہ اتنی آبادی تھی جتنی آبادی اس وقت لاہور شہر کی ہے۔مگر کیا کوئی قیاس کر سکتا ہے کہ لاہور کی آبادی اُٹھے اور امریکہ کی حکومت کو یا انگلستان کی حکومت کو یا روس کی حکومت کو یا جرمنی کی حکومت کو یا جاپان کی