خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 273

1945ء 273 خطبات محمود پس كن فيكون تو اتر اور تعدد پر دلالت کرتا ہے اور صحیح معنی یہی ہیں جو میں نے بیان کئے ہیں۔ اس میں آدم اور مسیح کی پیدائش کا تطابق بھی ہو جاتا ہے اور عقیدہ الوہیت مسیح کی بھی تردید ہو جاتی ہے۔ کیونکہ جب تعدد اور تو اتر پایا گیا تو مسیح اکلوتا بیٹا کہلانے کا حقدار نہ رہا جس کی وجہ سے اسے حقیقی بیٹا قرار دیا جاتا ہے۔“ حضور نے نماز جمعہ پڑھانے کے بعد فرمایا کہ: يكون کے معنی اس جگہ محض مستقبل کے بھی اس آیت میں کئے جا سکتے ہیں۔ چنانچہ یکون کا لفظ اگر حضرت آدم کی نسبت سمجھا جائے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ ہم نے آدم کو پیدا کیا مگر ساتھ ہی کہا کہ کُن تو صفت آدمیت کو بدرجہ اتم ظاہر کیا۔ چنانچہ ایسا ہو کر رہے گا یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ سے آدم کی پیدائش کا مقصد بدرجہ اتم ظاہر ہو گا۔ اور اسی طرح مسیح علیہ السلام کے متعلق ہو گا۔ ان کو بھی پیدا کر کے ہم نے کہا کہ گو تجھے ایک روحانی مقام کا ابتدائی نقطہ ہم قرار دیتے ہیں۔ مگر تُو اِس کا آتھ اور اکمل ظہور نہیں۔ بلکہ تجھے ہم کہتے ہیں کہ ہو۔ یعنی تیری روح اپنا پر تو دنیا پر ڈالتی رہے۔ جس طرح آدم کی روح پر تو ڈالتی رہی یہاں تک کہ درجہ اتم پر پہنچا ہو ا وجود ظاہر ہو جائے۔ اور ایساہی مسیح کے بارہ میں بھی ہو گا۔ یعنی عیسویت کے مقام کا انتہائی درجہ کا ظہور ایک زمانہ میں ظاہر ہو کر رہے گا۔ اور اس کا ظہور مسیح کے خدائی کے عقیدہ کو باطل اور پاش پاش کرنے والا ہو گا۔ پس یکون کی نسبت اگر حضرت آدم علیہ السلام کی طرف کریں تو اس سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ظہور ہے۔ اور اگر یکون کی نسبت مسیح علیہ السلام کی طرف ہو تو اس سے مراد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ظہور ہے۔“ کا 1: آل عمران: 60 روزنامه الفضل قادیان مورخہ 18 جولائی 1945ء) 2: دیوان حضرت خواجہ معین الدین چشتی صفحہ 56 مطبوعہ نولکشور 1868ء 3: در ثمین اردو صفحه 58 4: کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 17 (مفہوم)