خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 264

$1945 264 خطبات محمود لوگوں نے اسے ایک ظاہری واقعہ سمجھ لیا۔یہ روایت یوں بیان کی جاتی ہے کہ حضرت ایوب ایک دفعہ نہا رہے تھے کہ اُن پر سونے کی مچھلیوں کی بارش شروع ہو گئی۔حضرت ایوب نے نہانا چھوڑ دیا اور جلدی جلدی اُن مچھلیوں کو پچھنا شروع کر دیا۔اللہ تعالیٰ نے یہ نظارہ دیکھا تو حضرت ایوب علیہ السلام سے کہا اے ایوب ! کیا تجھے میں نے اتنی دولت نہیں دی تھی جو تیرے لئے کافی ہوتی؟ اور کیا میں نے تیرے اہل و عیال میں برکت نہیں رکھ دی تھی ؟ پھر تو نے یہ کیا حرص کا کام کیا کہ نہانا چھوڑ کر مچھلیاں چنے میں مشغول ہو گیا؟ حضرت ایوب علیہ السلام - جواب دیا۔اے میرے اللہ ! وہ دولت جو تو نے مجھے دی ہے میرے لئے کافی ہے مگر تیر افضل تو کسی کے لئے کافی نہیں ہو سکتا۔میں سونے کی مچھلیاں نہیں چن رہا تھا بلکہ میں تیرے فضل کو چن رہا تھا کیونکہ تیرے فضل سے کوئی انسان مستغنی نہیں ہو سکتا۔پس ایک مومن خواہ کتنا کام کرے وہ ثواب کے نئے سے نئے مواقع تلاش کرتارہتا ہے۔اور مومنوں کے استاد اور راہبر کا فرض ہوتا ہے کہ وہ ان سب کو ثواب میں حصہ لینے کے لئے بلائے۔مگر اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ وہ سمجھتا ہے کہ ان کی مدد کے بغیر کام نہیں ہو سکتا۔خدا کے کام بہر حال ہو کر رہتے ہیں خواہ بنی نوع انسان ان کی طرف توجہ کریں یا نہ کریں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے موسیٰ علیہ السلام سے ان کی قوم نے کہا۔اِذْهَبُ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلاَ إِنَّا هُهُنَا قَعِدُونَ 2- مگر اس کے باوجود موسی "جیت ہی گئے۔یہ نہیں ہوا کہ موسیٰ ہار گئے ہوں اور دشمن کا میاب ہو گیا ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم صرف تجھے مخاطب کرتے ہیں، تیرا فرض ہے کہ تو دشمن سے لڑے۔مسلمان اگر تیرے ساتھ شامل ہونا چاہیں تو ہو جائیں ورنہ اصل ذمہ داری صرف تجھ پر ہے۔اور تجھ اکیلے کو ہمارا حکم ہے کہ تو اس کام کو سر انجام دے۔چنانچہ کون کہہ سکتا ہے کہ صحابہ اگر آپ کے ساتھ نہ جاتے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نَعُوذُ بِاللهِ مارے جاتے۔اگر ایک صحابی بھی آپ کے ساتھ نہ جاتا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ والوں کو مار کر ہی آتے ان سے شکست کھا کر واپس نہ آتے۔پس خدا کے کام ہو کر رہیں گے دشمن ناکام ہو گا اور اس فتنہ کے پیدا کرنے میں اسے