خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 260

+1945 260 خطبات محمود تا کہ مومنوں کا ایمان مضبوط رہے اور کمزور لوگ مذہب کے خلاف اس تحریک کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہو جائیں۔پس ہماری جماعت کو اس فتنہ کے مقابلہ کے لئے پوری طرح تیار ہو جانا چاہیے۔میں نے تحریک کی تھی کہ کالجوں کے پروفیسر اس طرف خصوصیت سے توجہ کریں اور وہ لڑکوں کے سامنے اس پر تقریریں کرتے رہیں۔میں نے کہا تھا کہ ہمارے ماہر فن جو اقتصادیات یا مذہب میں مہارت رکھتے ہیں وہ کمیونزم کے ان اثرات پر روشنی ڈالیں جو اقتصاد اور مذہب پر پڑتے ہیں۔اسی طرح میں نے کہا تھا کہ ہمارے مبلغ اپنے تبلیغ کے دائرہ کو کمیونسٹ پارٹی کی طرف وسیع کریں۔غرض میں نے جماعت کو اس فتنہ کی اہمیت بتاتے ہوئے انہیں نصیحت کی تھی کہ وہ اس فتنہ کو مٹانے کے لئے پوری طرح تیار ہو جائیں۔میں نے دیکھا ہے کہ میری اس نصیحت کا کسی قدر اثر بھی ہوا ہے خصوصاً کانپور جو کمیونزم کا گڑھ ہے وہاں ہماری جماعت کے بعض افراد نے کوشش کی۔چنانچہ ایک آدمی جو کمیونزم کی طرف مائل تھا احمدی ہو گیا ہے اور مزید تبلیغ جاری ہے۔اسی طرح اس موضوع پر قادیان میں بھی کچھ لیکچر ہوئے ہیں اور باہر سے بھی ”الفضل“ میں بعض مضامین شائع ہوئے ہیں۔جن میں سے بعض مضمون اچھے تھے اور ان میں مفید معلومات لوگوں کے سامنے پیش کئے گئے تھے۔مگر یہ کام اس قسم کا نہیں کہ میں نے خطبہ پڑھا، لوگوں نے دو چار دن توجہ کی اور پھر خاموش ہو کر بیٹھ گئے۔یہ کام تو ایسا ہے کہ اس میں ہزاروں ہزار آدمی مشغول ہو جانے چاہئیں تب دنیا میں کچھ حرکت پیدا ہو سکتی ہے۔جو تنظیم ان لوگوں میں پائی جاتی ہے وہ ایسی ہے کہ ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اور ان کے لاکھوں مبلغ دنیا میں پائے جاتے ہیں۔گزشتہ دنوں امریکہ کے ایک اخبار میں شائع ہوا تھا کہ ہندوستان میں کمیونسٹ خیالات کی اشاعت کے لئے بارہ ہزار مبلغ روس میں تیار کئے جارہے ہیں۔اس سے تم سمجھ لو کہ اگر بارہ ہزار مبلغ ایک وقت میں روس کے ایک مدرسہ میں تیار کئے جارہے ہیں تو پندرہ ہیں سال میں وہ مختلف ممالک میں اپنے کس قدر مبلغ پھیلا چکے ہوں گے۔میں سمجھتا ہوں ان کے مبلغ چار پانچ لاکھ سے کم نہیں ہو سکتے۔اب بتاؤ وہ کام جو دنیا میں چار پانچ لاکھ با قاعدہ مبلغ علاوہ