خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 257

1945ء 257 خطبات محمود سال انبیاء نے خبر دی ہے ان میں اگر نام لے کر کسی فتنہ کی خبر دی گئی ہے۔ تو وہ یہی فتنہ ہے اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ فتنہ کتنا اہم ہے کہ اس نے آج سے ہزاروں ۔ پہلے اس کے متعلق خبر دے دی تھی تاکہ آخری زمانہ میں کمزور ایمان والے لوگ یہ نہ کہہ دیں کہ یہ خطرہ محض خیالی ہے۔ ہر نئی تبدیلی سے لوگ ڈر جاتے اور بغیر سوچے سمجھے اس کی مخالفت شروع کر دیتے ہیں۔ چونکہ اس نظام کے ذریعہ تمدن میں ایک تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ اس لئے اس نئی تبدیلی سے ڈر کر سوویٹ نظام کی مخالفت کی جاتی ہے۔ ورنہ در حقیقت اس میں خطرہ کی کوئی بات نہیں۔ بے شک جہاں تک سیاسیات کا تعلق ہے ہمیں اس سے کوئی واسطہ نہیں۔ یہ حکومت سے تعلق رکھنے والی چیز ہے اور حکومت سے تعلق رکھنے والی عملی سیاست خواہ روس کی ہو یا کسی اور ملک کی ہمارا اُس سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔ لیکن جہاں تک سیاسیات کے فلسفہ کا سوال ہے ہمارا تعلق فلسفه سیاست سے ضرور ہے۔ کیونکہ فلسفہ ایسی چیز ہے جو ہر انسان سے تعلق رکھتا ہے۔ پس عملی سیاسیات سے بے شک ہمارا کوئی واسطہ نہیں۔ اسے روس جانے، فرانس جانے، انگلستان جانے یا امریکہ جانے۔ لیکن جہاں تک اس کے ان مُصر عقائد کا سوال ہے جن کا مذہب پر برا اثر پڑتا ہے تو ہر مذہب والا جس کے خلاف بات پڑتی ہے اُس کا فرض ہے کہ وہ اس فتنہ کا مقابلہ کرے اور اس زہر کا ازالہ کرنے کی پوری کوشش کرے۔ مگر کمیونسٹوں کی طرف سے چونکہ ظاہر یہ کیا جاتا ہے کہ ہم غرباء کی تائید اور ان کی مدد کے لئے کھڑے ہوئے ہیں اس لئے عام طور پر خواہ مسلمان ہوں یا ہندو اس عقیدہ کی طرف مائل نظر آتے ہیں۔ بلکہ ہندوستان میں بعض مولوی ایسے موجود ہیں جو عام طور پر کمیونزم کی تائید کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح بعض مسلمان اخبارات کے ایڈیٹر ہیں جو اس کی تائید میں زور و شور سے مضامین لکھتے رہتے ہیں۔ حالانکہ ان اقتصادیات کا ہمارے ملک سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ وہ اقتصادیات خالص روس کی ترقی کے لئے ہیں اور روس ہی ان سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ مگر بعض دفعہ ایک چیز ایسی خوشنما معلوم ہوتی ہے کہ انسان اسے لینے کی کوشش کرتا ہے خواہ وہ کتنی ہی مصر کیوں نہ ہو۔