خطبات محمود (جلد 26) — Page 245
$1945 245 خطبات حمود میں پورا ہو چکا ہے۔مگر مجھے افسوس ہے کہ ڈائری نویسوں کی شستی کی وجہ سے وہ رو یا شائع نہیں ہوا۔بہر حال اُس روز قادیان کے تین چار سو افراد شام کی مجلس میں موجود تھے جنہوں نے یہ رویا میری زبان سے سنا اور وہ اس رؤیا کی صداقت کے گواہ ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ کی یہ بڑی بھاری حکمت معلوم ہوتی ہے کہ اول میں نے ہندوستان کی آزادی کے متعلق خطبہ پڑھا۔پھر میری آواز چودھری ظفر اللہ خان صاحب کے ذریعہ انگلستان پہنچی اور پر لیس میں ایک شور مچ گیا۔اس کے بعد لارڈ ویول ہندوستان کی آزادی کے متعلق تجاویز لے کر انگلستان گئے اور وزارت سے دیر تک بحث کرتے رہے۔اسی دوران میں پارلیمنٹ کے نئے انتخابات کا سوال آگیا اور آخر کنزرویٹو پارٹی اس بات پر مجبور ہو گئی کہ وہ جلد سے جلد اس سوال کو اٹھائے۔پھر خدا تعالیٰ نے مجھے قبل از وقت خبر دے دی کہ ابو الکلام صاحب آزاد کی زندگی سے ایک بہت بڑا کام وابستہ ہے۔چنانچہ انہی کی پریذیڈنٹی میں یہ سوال اٹھا حالانکہ اگر وہ فوت ہو جاتے یا پریذیڈنٹ بدل جاتا تو یہ کام ان کی طرف منسوب نہ ہو سکتا۔پس یہ تمام واقعات خدائی مشیت کے ماتحت ہوئے ہیں۔اور اس کے نشانات میں سے یہ ایک عظیم الشان نشان ہے جو ظاہر ہوا ہے۔یہ نشانات جو متواتر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہورہے ہیں ہماری جماعت کے مخلصین کے ایمانوں میں زیادتی کا موجب ہونے چاہئیں اور انہیں دیکھنا چاہیے کہ کس طرح یکے بعد دیگرے اللہ تعالیٰ ان کے لئے ایسے نشانات ظاہر کر رہا ہے جو انسانی طاقت و قوت سے بالکل بالا ہیں۔اس کے نتیجہ میں ہماری جماعت کو اپنے اخلاص اور اپنے ایمان اور اپنی قربانیوں میں نمایاں طور پر ترقی کرنی چاہئے۔میں نے گزشتہ خطبہ میں بیان کیا تھا کہ بے شک جماعت مالی قربانی کر رہی ہے مگر جہاں تک تحریک جدید کا تعلق ہے اس میں جماعت نے سستی سے کام لیا ہے۔اب بھی باوجود میرے خطبہ کے جماعت میں شائع ہونے کے جماعت میں سستی کے آثار نظر آتے ہیں۔سات مہینے تحریک جدید کے گیارہویں سال پر گزر چکے ہیں لیکن ابھی چالیس فیصدی چندہ بھی وصول نہیں ہوا۔میں سمجھتا ہوں اس میں زیادہ تر جماعت کی سستی نہیں کیونکہ انجمن کے چندے با قاعدہ وصول ہو رہے ہیں۔اس میں زیادہ تر غفلت تحریک جدید کے دفتر کی ہے۔اگر