خطبات محمود (جلد 26) — Page 220
+1945 220 (17) خطبات محمود جماعت اپنی حالت پر غور کرے (فرموده یکم جون 1945ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: سکوں ”ابھی تک میری بیماری میں ایسا افاقہ نہیں ہوا کہ میں کھڑے ہو کر خطبہ پڑھ بلکہ ابھی تک مرض کا کچھ حصہ باقی ہے۔آج سے دو ہفتہ پہلے جب میں نے بیٹھ کر خطبہ پڑھا تو گو میں نے یہاں بیٹھ کر خطبہ پڑھا لیکن میرے مرض کے بڑھنے میں اُس کا دخل تھا۔اگر میں اس دن لیٹا رہتا تو شاید مرض زیادہ شدت اختیار نہ کرتا۔خطبہ کے بعد خون کا دباؤ لیا گیا تو ستر نوے تھا یعنی ایک سو تیس کی جگہ توے۔اور دونوں کا فرق بجائے چالیس کے ہیں۔جو اس بات کی علامت ہے کہ دل اپنا کام ٹھیک طرح نہیں کرتا۔ڈاکٹری مشورہ یہ ہے کہ فوڑا پہاڑ پر چلے جانا چاہیے تا خون کا دباؤ بہتر ہو جائے اور خون کے سرخ ذرات میں ترقی ہو۔مگر ابھی مشکل یہ ہے کہ مکان زیر تعمیر ہے اس لئے میر ارادہ ہے کہ فی الحال دو تین دن کے لئے ہو آؤں۔پھر مکان کی تکمیل کے بعد ڈلہوزی لمبے عرصہ کے لئے جلد جاؤں یا جس طرح خدا تعالیٰ چاہے۔آج میں خصوصیت سے اس غرض کے لئے جمعہ پر آیا ہوں کہ میں دیکھتا ہوں ایک طرف تو ہمارے لئے کام کے دروازے گھل رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کر رہا ہے کہ جن سامانوں کی موجودگی میں ہمیں تبلیغ اسلام اور تبلیغ احمدیت کی سہولتیں میسر آنے کے امکانات ہیں۔لیکن دوسری طرف مجھے یہ بھی نظر آرہا ہے کہ جماعت میں نہ معلوم ان