خطبات محمود (جلد 26) — Page 179
$1945 179 خطبات حمود کوشش کریں تو یہ کر سکتے ہیں کہ ایسے سو آدمیوں کو جمع کر لیں مگر ہم ہال بنارہے ہیں لاکھ آدمیوں کا۔ظاہر ہے کہ اس میں زیادہ تر ہماری اپنی جماعت کے لوگ ہی آئیں گے۔مگر کیا احمدیوں کے سن لینے سے اسلام ساری دنیا میں روشناس ہو جائے گا؟ پس اتنی بڑی رقم خرچ کرنے کے بعد ہمیں ایسی صورت سوچنی چاہیے کہ جس سے ہم اس ہال کو اسلام کی تبلیغ کا مرکز بنادیں۔اس کے متعلق میں نے جو تجویز سوچی ہے وہ یہ ہے کہ ہم جہاں یہ ہال بنائیں اُس کے ساتھ ایک بہت بڑی لائبریری بنائیں جس لائبریری میں دنیا کے تمام مذاہب کی کتب جمع کی جائیں۔اگر ساری نہیں تو تمام مذاہب کی اہم کتب اور اسلام کی قریباً ساری کتب جمع کرنے کی کوشش کی جائے کیونکہ دنیا کے مذاہب کا مقابلہ ان کی کتب اور اپنی کتب کے مطالعہ سے ہی کیا جاسکتا ہے۔ہم جاہلوں کو تو موٹی موٹی باتوں کے ذریعہ سے سمجھا سکتے ہیں لیکن قوم کے علماء کو جب تک ہم ہر میدان میں اُن کے مذہب کی کمزوری اُن پر ثابت نہ کر دیں ان کے مذہب سے بد ظن نہیں کر سکتے۔اسی طرح ہمارے مبلغ جو کام کرتے ہیں ہم اُن سے امید تو کرتے ہیں کہ وہ مخالف مذہب کی کتب کا مطالعہ کریں لیکن ایک انسان تبلیغ بھی کرے، تربیت کا کام بھی کرے، عبادت بھی کرے اور پھر ایسا مطالعہ بھی کرے کہ ہر مذہب کی کتب کا واقف ہو سکے یہ ناممکن بات ہے۔اور اگر ہمارے مبلغین کا علمی مقام اتنا بلند نہ ہو کہ وہ ہر مذہب کے مقابلہ میں کامیاب طور پر کھڑے ہو سکیں تو ہماری تعلیم اور تبلیغ اتنی موئثر نہیں ہو سکتی۔اس لئے سب سے پہلے ضروری ہے کہ ہم پہلے تو ہر مذہب کے لٹریچر کو اپنے یہاں جمع کریں۔اس کے لئے میرا اندازہ یہ ہے کہ تین لاکھ روپے کی ضرورت ہو گی جس سے عمارت تیار کی جائے گی۔عمارت تیار کرنے کے بعد ہر مذہب کی کتابیں جمع کرنے کا کام ہے۔جو لوگ کتابیں جمع کرنے کا شوق رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ کتابیں جمع کرنا کتنا مشکل کام ہے۔میری اپنی چھوٹی سی لائبریری ہے۔میں سمجھتا ہوں وہ بھی پچیس تیس ہزار کی ہو گی۔اور وہ اس وقت کامل لائبریری کا ہزارواں حصہ بھی نہیں بلکہ دس ہزارواں حصہ بھی نہیں۔ہمیں ایک مکمل لائبریری کے لئے تین چار لاکھ جلدوں کی ضرورت ہے اور یہ تین چار لاکھ جلدیں پچاس ساٹھ لاکھ روپے میں خریدی جاسکتی ہیں۔لیکن اگر ابتدا میں ساری کتب نہ خریدیں بلکہ اہم کتب جمع