خطبات محمود (جلد 26) — Page 178
$1945 178 خطبات محمود پس اگر پکی عمارت یعنی اینٹوں اور سیمنٹ وغیرہ سے جلسہ گاہ بنائی جائے تو کم سے کم پچیس لاکھ میں بنے گی اور اگر لکڑی کی گیلیاں یا لوہے کی تختیاں وغیرہ لگائی جائیں تو وہ آٹھ لاکھ روپیہ میں بنے گی۔پس جو لوگ شوری کے موقع پر اس تحریک میں شامل نہیں ہو سکے ان کے لئے مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔اور پھر پانچ سال کا لمبا عرصہ ہے اس میں وہ سہولت کے ساتھ اس رقم کو پورا کر سکتے ہیں اور جماعت کے کسی فرد کے لئے بھی امکان نہیں کہ وہ اس تحریک میں شامل ہونے سے محروم رہ جائے بلکہ ہر فر د شوق سے اس میں حصہ لے سکتا ہے۔لیکن ایک اور بات جس کو اُس وقت میں نے پیش نہیں کیا تھا لیکن اس کے بغیر یہ سکیم نامکمل رہ جاتی ہے اور جس کی وجہ سے جلسہ گاہ کے علاوہ بھی ابھی بہت سے روپے کی ضرورت ہے اتنے روپے کی کہ شاید جماعت کی موجودہ حالت کے لحاظ سے لوگ سمجھیں کہ جماعت کے لئے اتنا روپیہ جمع کرنا بہت بڑا بار ہے۔مگر یاد رکھنا چاہیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب ہال کی تجویز فرمائی تھی تو اس قسم کا ہال تیار کرنے سے آپ کا اصل مقصد یہی تھا کہ اسلام کو دوسرے مذاہب کے لوگوں سے روشناس کرایا جائے۔اور اُس وقت کے لحاظ سے آپ نے سمجھا تھا کہ ایک سو آدمیوں کے لئے ہال بنانا بڑی بات ہے۔لیکن آج ہمارے حوصلے خدا کے فضل سے بڑھے ہوئے ہیں اور ہم کہتے ہیں سو کیا لا کھ آدمیوں کا ہال بناؤ۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس ہال کے ذریعہ سے دنیا بھر کو اسلام سے روشناس کراسکیں گے ؟ ہال تو بن گیا لیکن اس ہال کی جو غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمائی تھی کیا ہم اس غرض کو پورا کرنے کیلئے ہر مذہب کے ایک لاکھ آدمیوں کو دعوت دے کر ان کو یہاں بلانے میں بھی کامیاب ہو سکیں گے؟ ظاہر ہے کہ ہماری موجودہ حیثیت ایسی نہیں کہ ایک لاکھ تو کجا دس ہزار آدمیوں کو بھی یہاں بلانے میں کامیاب ہو سکیں۔جو اپنے مذہب اور اپنی قوم میں اہمیت اور اثر ورسوخ رکھتے ہوں۔ہمارے جلسہ سالانہ پر دو تین سو غیر مذاہب کا آدمی باہر سے آجاتا ہے۔لیکن ان دو تین سو میں سے ہر ایک کی حالت ایسی نہیں ہوتی کہ وہ اپنی قوم اور اپنے مذہب میں اثر ورسوخ رکھتا ہو۔وہ جو اثر ورسوخ والے ہوتے ہیں ان کی تعداد دس بیس سے زیادہ نہیں ہوتی۔پس ہماری موجودہ حالت کے لحاظ سے زیادہ سے زیادہ اگر ہم