خطبات محمود (جلد 26) — Page 154
$1945 154 خطبات محمود ہے۔جب فوجی تیاری کرتے کرتے یعنی حملہ کر دینے کا وقت آجائے تو اسے zero hour کہتے ہیں۔مثلا اتحادی فوج، جرمن فوج کے مقابل کھڑی ہے اور اس پر حملہ کرنے کی زبر دست تیاریاں کر رہی ہے۔جب اس کی تمام تیاریاں پوری ہو جائیں، وہ گولہ بارود کا کافی سٹاک مہیا کر لے کافی ہوائی طاقت جمع کر لے، ٹینک اور تو ہیں وغیرہ اچھی طرح درست کر لے اور جرمن فوج پر حملہ کا وقت آجائے تو اسے zero hour کہا جائے گا اور انگریزی اخبار لکھیں گے کہ حملہ کاzero hour آگیا ہے۔میں بھی جماعت کو یہ اطلاع دینا چاہتاہوں کہ الہی سامانوں سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے لئے zero hour آپہنچا ہے۔قدم قدم پر بعض ایسے واقعات ظہور پذیر ہو رہے ہیں کہ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ وقت عنقریب آنے والا ہے جب ہمیں اپنا سب کچھ تبلیغ میں لگا دینا ہو گا۔اور جماعت کے ہر فرد کے لئے لازم ہے کہ اُس وقت کے لئے تیاری کرے۔میں نے پہلے کئی دفعہ کہا ہے کہ جب وہ وقت آئے گا میں اطلاع دوں گا۔سو میں اطلاع دیتا ہوں کہ یاوہ وقت آگیا ہے یا آنے والا ہے اور اس لئے بھی میں نے یہ نصیحت کی ہے کہ دوستوں کو بے فائدہ باتوں پر وقت نہ ضائع کرنا چاہیے۔یہ بالکل معمولی اور مقامی باتیں ہیں۔تم نے ایک وسیع تبلیغی حملہ کرنا ہے۔دشمن تمہیں مقامی باتوں میں اُلجھانا چاہتے ہیں مگر تمہیں ان میں نہ الجھنا چاہیے۔تمہارا ایسی باتوں میں الجھ جانا دشمن کی فتح ہے اور کوئی نادان ہی اپنے ہاتھ سے دشمن کی فتح کا سامان دے سکتا ہے۔اس جلسہ سالانہ کے بعد ایسے جلدی جلدی حالات بدل رہے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے وہ وقت جبکہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ زور سے تبلیغ کی جائے اور چاروں طرف تبلیغ کے کام کو وسیع کر دیا جائے وہ اب بالکل قریب آگیا ہے۔اور ایسے سامان پیدا ہو رہے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے ہمارے لئے zero hour آنے والا ہے یا آچکا ہے۔جلسہ سالانہ کے بعد حیرت انگیز طور پر اور بڑی سرعت کے ساتھ ایسے سامان پیدا ہو رہے ہیں جو پہلے سال سال میں نہیں ہوتے تھے۔اور وہ باتیں جو پہلے سال سال میں بھی نہ ہوتی تھیں وہ ان دو ماہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ظاہر ہونے لگی ہیں۔(الف) اس سلسلہ میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ میں نے 12 جنوری 1945ء کو