خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 155

$1945 155 خطبات محمود اسی سیج پر ایک خطبہ پڑھا تھا جس میں انگلستان اور ہندوستان دونوں کو نصیحت کی تھی کہ دونوں اپنے سابقہ اختلافات کو بھلا کر باہم سمجھوتہ کرنے کی کوشش کریں۔میں نے انگلستان کو نصیحت کی تھی کہ ”اے انگلستان! تیرا فائدہ ہندوستان سے صلح کرنے میں ہے۔خدا تعالیٰ کا منشاء یہی ہے کہ تم دونوں مل کر کام کرو اور دونوں مل کر دنیا میں امن قائم کرو“۔پھر میں نے کہا تھا کہ ”میں انگلستان کو دعوت دیتا ہوں کہ آؤ اور ہندوستان سے صلح کر لو“۔اور پھر میں نے ہندوستان کو بھی نصیحت کی تھی کہ ”وہ بھی انگلستان کے ساتھ اپنے پرانے اختلافات کو بھلا دے۔“ اور میں نے کہا تھا کہ ”میں ہندوستان کو دعوت دیتا ہوں کہ جاؤ انگلستان سے صلح کر لو۔“ اور پھر میں نے کہا تھا کہ ”میں ہندوستان کی ہر قوم کو دعوت دیتا ہوں کہ آپس میں صلح کر لو۔“ پھر میں نے یہ بھی کہا تھا کہ میں جانتا ہوں کہ ”میری آواز کانہ ہندوستان پر اثر ہو سکتا ہے اور نہ انگلستان پر اثر ہو سکتا ہے۔اور ہو سکتا ہے کہ میری یہ نصیحت ہوا میں اُڑ جائے مگر اب تو ہوا میں اُڑنے والی آواز کو بھی پکڑنے کے سامان پیدا ہو چکے ہیں۔یہ ریڈیو ہوا میں سے ہی آواز کو پکڑنے کا آلہ ہے۔پس مجھے اس صورت میں اپنی آواز کے ہوا میں اُڑ جانے کا بھی کیا خوف ہو سکتا ہے۔جبکہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری ہوا میں اڑنے والی آواز کو بھی لوگوں کے کانوں تک پہنچا دے۔“اور اب دیکھ لو! اللہ تعالیٰ نے ایک قلیل عرصہ کے اندر ہی کس طرح اُس آواز کے بلند ہونے کے سامان بہم پہنچا دیئے۔انگلستان میں کامن ویلتھ ریلیشنز کا نفرنس میں چودھری سر ظفر اللہ خان صاحب ہندوستانی ڈیکیشن (Delegation) کے لیڈر بنا کر بھیجے گئے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں میری اس آواز کو وہاں بلند کرنے کی توفیق دی۔اور اب یہی آواز کہ برطانیہ کو چاہیے ہندوستان کو آزاد کر دے اور اس سے صلح کرلے سارے انگلستان میں بلند ہو رہی ہے۔ہمارے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہ تھا جس سے ہم اس آواز کو انگلستان میں بلند کر سکتے۔ہم تو دس سال میں بھی ایسا نہ کر سکتے تھے۔مگر دیکھو اللہ تعالیٰ کا کتنا فضل ہے کہ ادھر میں نے یہ اعلان کیا اور اُدھر چودھری صاحب کو جلدی ہی انگلستان جانا پڑا اور انہوں نے وہاں جاتے ہی اس آواز کو بلند کیا۔اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اس سعادت کے لئے منتخب کر لیا کہ وہ انگلستان میں میری اس آواز کو بلند کر سکیں۔