خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 136

خطبات محمود 136 $1945 بعض لوگ جہالت کے جوش میں آکر کہہ دیا کرتے ہیں کہ سیاحت کرنا لغو اور بے ہودہ ہے حالانکہ قرآن مجید نے ایک طرف لغو کاموں سے اعراض کرنے کا حکم دیا ہے اور دوسری طرف یہ فرمایا ہے کہ دنیا میں چلو، پھرو اور دنیا کے حالات کو دیکھو۔تو صاف معلوم ہو گیا کہ قرآن مجید ہر کام کی حد بندی کرتا ہے۔وہی چیز جو اپنے دائرہ کے اندر مفید ہوتی ہے اپنے دائرہ سے باہر لغو ہو جاتی ہے۔کیا اس صورت میں دین کا علم حاصل کرنا بھی لغو نہیں بن جاتا جب مولوی ساٹھ ساٹھ سال تک اپنی عمر پڑھنے میں گزار دیتے ہیں؟ جب میں عربی مدارس کا دورہ کرتے ہوئے رام پور گیا تو وہاں میں نے ایک افغانی طالب علم کو دیکھا جس کی عمر پچاس پچپن سال کی تھی اور بال سفید ہو رہے تھے۔وہ بیٹھا بخاری پڑھ رہا تھا۔میں نے اس سے پوچھا آپ کیوں پڑھ رہے ہیں ؟ اُس وقت تو سب کے سامنے اُس نے یہی جواب دیا کہ علم کو علم کی خاطر حاصل کرنا نیکی ہے لیکن میں بھی سمجھتا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے اور وہ بھی جانتا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔جب ہم وہاں سے باہر آئے تو وہ بھی ہمارے پیچھے باہر آگیا اور باہر آکر کہنے لگا کہ اصل بات یہ ہے کہ یہ علم جو ہم پڑھ رہے ہیں اِس کا دنیا میں کیا فائدہ ہے۔اسے پڑھ کر کونسی نوکری مل جاتی ہے۔مجھے پڑھائی ختم کئے تو پندرہ بیس سال ہو گئے ہیں لیکن میں ہر سال عمدا فیل ہو جاتا ہوں کیونکہ میں اس انتظار میں ہوں کہ یہاں کے بڑے مدرس صاحب فوت ہوں۔جب وہ فوت ہو جائیں گے تو میں بھی پاس ہو جاؤں گا اور مجھے ان کی جگہ نوکری مل جائے گی۔اب اس زندگی کا کیا فائدہ؟ بظاہر وہ دین کی کتابیں پڑھتا تھا، بخاری پڑھتا تھا ، فقہ کی کتابیں پڑھتا تھا لیکن وہ یہ ساری کتابیں محض اس لئے پڑھتا تھا کہ اس کا وقت کسی کام میں لگا رہے اور انتظار کرنا اُس پر شاق نہ گزرے۔یہاں تک کہ استاد فوت ہو جائے اور اُس کی جگہ اُسے مل جائے۔اب یہ کام ایسا ہی لغو تھا جیسا کہ سینما یا سرکس میں وقت گزار نالغو ہے۔بلکہ اس سے زیادہ لغو تھا کیونکہ ایک شخص سینما یا سر کس دیکھنے کے بعد آکر اور کام شروع کر دیتا ہے مگر اس نے تو اپنی ساری عمر ہی سینما میں گزار دی۔ساری عمر ہی سرکس میں گزار دی اور ساری عمر ہی عملی میدان میں قدم نہ رکھا۔مرنے کے بعد جب خدا تعالیٰ اس سے سوال کرے گا کہ تم نے دنیا میں کیا کام کیا؟ تو وہ سوائے اس کے اور کیا جواب دے گا کہ حضور ! میں نے اپنی