خطبات محمود (جلد 26) — Page 6
خطبات محمود +1945 عیسائیوں سے مسلمان ہونے والے تھے تو ایک عرب کا مسلمان تھا۔اور یہ ظاہر ہے کہ وہی عقائد زیادہ پھیل سکتے تھے جو دس کے ہوں۔عیسائیوں سے مسلمان ہونے والوں کے دلوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عظمت تھی۔انہوں نے ان کی خدائی کا خیال تو ترک کر دیا مگر ان کی بڑائی کے سب عقائد کو نہ چھوڑا اور نتیجہ یہ ہوا کہ ایسے عقائد مسلمانوں میں بھی رائج ہو گئے۔دیکھ لو ایسے تمام غلط عقائد جو آج مسلمانوں میں ہیں سب عیسائیوں والے ہی ہیں جن میں حضرت عیسی علیہ السلام کی بڑائی پائی جاتی ہے۔اگر کسی مسلمان سے پوچھا جائے کہ حضرت نوح مُردے زندہ کرتے تھے ؟ تو کہے گا نہیں۔حضرت ابراہیم مردے زندہ کرتے تھے ؟ وہ کہے گا نہیں۔حضرت موسی کرتے تھے ؟ کہے گا نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کرتے تھے ؟ کہے گا نہیں۔اگر پوچھو کوئی نبی کرتا تھا؟ تو وہ کہے گا ہاں حضرت عیسی کرتے تھے۔اسی طرح پوچھو کسی نبی نے کوئی مخلوق پیدا کی؟ حضرت نوح نے حضرت ابراہیم نے حضرت موسیٰ نے کوئی مخلوق پیدا کی؟ تو وہ انکار کرے گا۔اگر پوچھا جائے کہ کسی نبی نے کی ؟ تو کہے گا ہاں۔کس نے ؟ حضرت عیسی نے۔پوچھو کسی نبی کو علم غیب تھا؟ کوئی بتا سکتا تھا کہ کسی نے گھر میں کیا کھایا؟ کیا حضرت نوح یہ بات بتا سکتے تھے ؟ وہ کہے گا نہیں۔حضرت ابراہیم بتا سکتے تھے ؟ کہے گا نہیں۔حضرت موسیٰ بتا سکتے تھے ؟ کہے گا نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بتا سکتے تھے ؟ کہے گا نہیں۔کوئی بتا بھی سکتا تھا؟ کہے گا ہاں۔کون ؟ حضرت عیسی۔تو ایسی سب باتیں حضرت عیسیٰ کی طرف منسوب کی جاتی ہیں۔کلمتہ اللہ حضرت عیسی ہیں اور کوئی نبی نہیں۔گناہوں سے پاک صرف وہ ہیں اور کوئی نہیں۔اور یہ سب عقائد وہی ہیں جو عیسائیوں کے تھے۔حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد اسلامی بادشاہت دمشق میں چلی گئی تھی یہ عیسائی ملک تھا۔یہاں کثرت سے عیسائی مسلمان ہو گئے۔مگر چونکہ ان کی تربیت صحیح طور پر نہ ہو سکی انہوں نے حضرت عیسی کی خدائی کا عقیدہ تو ترک کر دیا لیکن قرآن کریم کی جو بھی ڈوالمعانی آیت نظر آئی اُس کو لیا اور اس رنگ میں اسکے معنے کئے کہ زیادہ سے زیادہ بڑائیاں حضرت عیسی کی طرف منسوب کر دیں۔اور چونکہ دمشق اُس وقت اسلامی حکومت کا مرکز تھا اس لئے