خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 5

$1945 5 خطبات محمود جس کی ہر بوٹی کا ٹکڑا ہاتھ سے توڑا گیا ہو اور جس کے ہر آلو کو انگلیوں سے دبا کر دیکھا گیا ہو۔پس جس طرح آدمی دیگ کے ہر چاول اور ہر بوٹی اور ہر آلو کو نہیں دیکھا کرتا بلکہ چند ایک کو دیکھ کر ہی قیاس کر لیتا ہے اسی طرح جو لوگ کسی مذہب کو اختیار کرتے ہیں وہ صرف چند ایک اہم اصول اور مسائل کو دیکھ کر ہی اختیار کر لیتے ہیں تمام جزئیات اور تفاصیل کو نہیں سیکھا کرتے۔وہ خیال کر لیتے ہیں کہ تفاصیل پھر سیکھیں گے۔اسی طرح جو لوگ احمدیت میں داخل ہوں گے وہ سو فیصدی سیکھ کر نہیں ہوں گے بلکہ ان کے داخل ہونے کے بعد ان کو دین سکھانا ہمارا کام ہے۔اور اگر کثرت سے لوگ داخل ہوں اور ان کو دین سکھانے والے نہ ہوں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ہم ان پر غالب نہیں آئے بلکہ وہ ہم پر غالب آگئے۔اسلام دوسرے مذاہب پر غالب نہیں آیا بلکہ اگر وہ عیسائیت سے آئے ہیں تو گویا عیسائیت اسلام پر غالب آگئی اور اگر نئے داخل ہونے والے ہندو مذہب سے آئیں گے تو ہندو مذ ہب اسلام پر غالب آگیا کیونکہ کسی قوم میں جن لوگوں کی کثرت ہو گی انہی کے خیالات پھیلیں گے۔پس جو لوگ احمدیت میں بکثرت داخل ہوں گے اگر ہم ان کو دین سکھانے کا انتظام نہ کر سکے تو لازمی بات ہے کہ بجائے احمدیت کی تعلیم پھیلنے کے ان کے خیالات پھیل جائیں گے۔اور اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ ہم میں داخل نہیں ہوئے بلکہ ہم ان میں داخل ہو گئے ہیں۔بعض لوگ بہت حیرت سے پوچھتے ہیں کہ یہ ہوا کیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے آسمان پر جانے کا عقیدہ مسلمانوں میں پھیل گیا۔یہ گویا ایک مثال ہمارے سامنے ہے کہ کس طرح ایک غیر اسلامی عقیدہ اسلامی بن گیا۔یہ مثال ہمیں ہوشیار کرنے کے لئے ہے کہ غفلت کے باعث اس طرح غیر احمدی عقائد احمدی عقائد بن سکتے ہیں اگر ہم آنے والوں کی اچھی طرح تربیت نہ کریں گے۔دیکھو حضرت عیسی علیہ السلام کے آسمان پر جانے کا غیر اسلامی عقیدہ اسلامی کس طرح بن گیا۔اس کی وجہ یہی تھی کہ شروع میں جب خلافت کا نظام ٹوٹا تو حکومت کا مرکز دمشق قرار پایا جہاں زیادہ تر عیسائی رہتے تھے۔وہ مسلمان تو ہو گئے مگر چونکہ ان کی دینی تعلیم کا کوئی خاطر خواہ انتظام نہ تھا اس لئے ان کے بہت سے عقائد مسلمانوں میں پھیل گئے۔اُس زمانہ میں عیسائیوں سے مسلمان ہونے والوں کی کثرت تھی۔اگر شام میں دس