خطبات محمود (جلد 26) — Page 103
1945ء 103 خطبات محمود ایک ڈپٹی کمشنر نے گورنمنٹ کو رپورٹ کی تھی کہ اس علاقہ میں ہر شخص چوری کرتا ہے اس لئے اس کو چوری کہنا درست ہی نہیں۔ ان لوگوں میں چوری کرنا ایک قومی رسم اور کھیل سمجھا جاتا ہے۔ جیسے کبڑی کھیلتے ہیں اور ایک دوسرے کو گرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح ان علاقوں میں چوری بھی ایک دوسرے کا مقابلہ کرنے کے لئے ہوتی ہے اور اس کو ذلیل نہیں سمجھا جاتا۔ اگر کوئی بھینس چھر الائے تو کہتے ہیں بہت اچھا کیا بڑی بہادری دکھائی۔ بہن کو جب تک بھائی چوری کی بھینس لا کر نہ دے اُس وقت تک اس کے سر پر پگڑی نہیں باندھتے۔ پھر دوسرے اس چوری کا پتہ بھی لگاتے ہیں اور کھوج کا ملکہ بھی ان میں پایا جاتا ہے۔ تو مغلا کے بھائی بھی ان امراض میں مبتلا تھے اور جانور چوری کر کے لاتے تھے ۔ جن کی چوری ہوتی وہ بھی کھوج لگا کر وہاں پہنچ جاتے۔ لوگ ان کو جمع کر کے پوچھتے کہ یہ تمہارے پیچھے کھوج لائے ہیں کہ تم جانور چرا کر لائے ہو۔ وہ قسمیں کھا دیتے کہ ہم تو نہیں لائے۔ اس پر وہ کہتے کہ اچھا پھر مغلے سے پوچھو۔ اگر وہ کہہ دے کہ تم نہیں لائے تو ہم مان لیں گے ۔ باپ اور بھائی مغلے سے کہتے کہ دیکھو ! اگر تم سچی گواہی دو گے تو ہماری بہت ذلت ہو گی۔ تم ہماری خاطر کہہ دو کہ نہیں لائے ورنہ ہم تمہیں ماریں گے۔ وہ کہتا تم لائے تو تھے پھر میں کس طرح کہہ دوں کہ تم نہیں لائے۔ وہ کہتے لانے کا سوال نہیں، تم ہماری خاطر کہہ دو کہ نہیں لائے۔ وہ کہتا یہ تو میں نہیں کہوں گا۔ جب تمہیں معلوم ہے کہ میں سچی گواہی دوں گا تو پھر تم میری گواہی کیوں دلواتے ہو۔ وہ کہتے تمہارے بغیر وہ مانتے نہیں اور اسے مجبور کر کے لے جاتے۔ مجلس میں جا کر جب اُسے گواہی کے لئے پیش کرتے تو وہ کہہ دیتا کہ میں تو تمہارے نزدیک کافر ہوں تم کافر سے کیوں گواہی لیتے ہو ؟ وہ کہتے ہو تو تم کافر لیکن بولتے سچ ہو اس لئے اگر تم کہہ دو گے کہ تمہارے بھائی جانور پھرا کر نہیں لائے تو ہم واپس چلے جائیں گے۔ اور اگر کہہ دو گے کہ لائے ہیں تو پھر ان کو دینے پڑیں گے۔ پھر وہ جواب دیتا کہ میں تو تمہارے نزدیک کافر ہوں میں گواہی نہیں دینا چاہتا۔ آخر جب دونوں طرف سے اصرار ہوتا تو یہ کہہ دیتا کہ ہاں لائے تو تھے۔ بھینس والوں کو اُن کی بھینس مل جاتی اور اس کو ڈنڈے پڑتے۔ یہ وہ نمونہ ہے جس کے ذریعہ غیر قوم بھی مرعوب ہو جاتی ہے۔ اب خواہ وہ اس کو مارتے تھے لیکن جس مجلس میں یہ تے