خطبات محمود (جلد 26) — Page 80
$1945 80 خطبات محمود اور آمدنی پیدا کرنے کے ذرائع سوچیں گے اور کام میں جو وسعت پیدا ہو گی وہ اس آمدنی سے پوری کریں گے۔پس جہاں تک موجودہ اڑھائی لاکھ روپے کا بوجھ اٹھانے کا سوال ہے یہ بوجھ تحریک جدید کے چندوں پر ڈالا جائے اور جب دفتر اول کے انیس سال پورے ہوں تو دفتر ثانی اس بوجھ کو اٹھائے۔مگر اُس وقت تک کام میں جو وسعت پید ا ہو چکی ہو گی اور اس کام کو چلانے کے لئے جو ضرورت بڑھ جائے گی وہ ضرورت اس ریز رو فنڈ کی آمد سے پوری کی جائے۔میں اس کے متعلق بتانا نہیں چاہتا تھا مگر شاید یہ خیال کیا جائے کہ جائیداد کی آمد بے کار پڑی رہے گی اس لئے میں نے بتا دیا ہے کہ وہ بے کار نہیں پڑی رہے گی بلکہ اس کے آمدنی کے نئے ذرائع پیدا کئے جائیں گے جو کام کی وسعت کو سنبھال سکیں۔اس وقت اس جائیداد کی قیمت پنجاب کی قیمتوں کے لحاظ سے اسی لاکھ روپیہ کی ہے اور وہاں (سندھ) کی قیمتوں کے لحاظ سے ستائیس لاکھ روپے کی ہے اور گورنمنٹ کو اس پر کوئی سترہ لاکھ روپے کے قریب اس کی قیمت دی گئی ہے۔اس رقم میں سے چھ سات لاکھ روپیہ چندوں سے بچا کر دیا گیا ہے۔باقی وہیں کی آمدنی سے یا قرض لے کر ادا کیا گیا ہے۔گل سترہ لاکھ روپیہ دے کر اب یہ جائیداد آزاد کرائی جاچکی ہے جس کی قیمت اب ستائیس لاکھ روپیہ ہے۔تین چار لاکھ وہاں کی آمدنی سے، پانچ لاکھ قرض لے کر اور چھ سات لاکھ چندہ میں سے ادا کیا گیا ہے اور میں کوشش کر رہا ہوں کہ ان جائیدادوں کو منظم کر کے ان کی آمدنی سے آہستہ آہستہ ہیں پچیس لاکھ کا ایک اور ریزرو فنڈ قائم کر دیا جائے۔پس میری اس سکیم کے ماتحت جائیداد کی آمدنی کو اُس وقت تک چھو انہیں جا سکتا۔ور نہ کچھ سال کے بعد کام کے بڑھنے پر سلسلہ کو سخت نقصان پہنچے گا۔ضرورت ہے کہ اس کی آمدن سے مزید آمد پیدا کی جائے تاکہ کام میں جو وسعت پید اہو اس کے لئے ابھی سے سامان مہیا کرنا شروع کر دیا جائے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ ہمارے چھوٹے سے چھوٹے کام کے لئے ڈیڑھ کروڑ روپیہ سالانہ کی ضرورت ہے۔لیکن اگر ہم ہیں پچیس لاکھ روپیہ سالانہ بھی خرچ کریں تو اس میں پچیس لاکھ روپیہ سالانہ کی آمد پیدا کرنے کے لئے بھی ابھی سے سامان پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ جماعت کو کس قدر بڑھا دے گا کہ