خطبات محمود (جلد 26) — Page 79
$1945 79 خطبات محمود اور پھر بھی ابھی بہت سی دنیا ہماری تبلیغ سے باہر رہ جائے گی۔اگر موجودہ حالت سے ساٹھ گنا زیادہ علاقوں میں تبلیغ کو وسیع کریں تو موجودہ اندازہ میں نے اڑھائی لاکھ بتایا ہے اس کو اگر ساٹھ سے ضرب دیں تو یہ ایک کروڑ پچاس لاکھ روپیہ ہو جاتا ہے۔بہر حال جب وہ زمانہ آئے گا تو اُس وقت خدا تعالیٰ ایسے سامان بھی پیدا کر دے گا کہ ایک کروڑ پچاس لاکھ تو کیا اگر ایک ارب روپیہ کا مطالبہ کیا جائے گا تو لوگ کہیں گے یہ تھوڑا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ زمانہ کب آئے گا۔ہماری زندگی میں آئے یا ہماری زندگی کے بعد آئے، مگر آئے گا ضرور۔زمین و آسمان ٹل سکتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کے وعدے نہیں مل سکتے۔اللہ تعالیٰ کی مشیت فیصلہ کر چکی ہے کہ ساری دنیا پر اسلام اور احمدیت کی تبلیغ پھیلا دی جائے۔اور اس کے لئے غیر معمولی سامان پید اہو رہے ہیں، آسمان سے فرشتے نازل ہو رہے ہیں کہ لوگوں کے دلوں کی اصلاح کرلیں اور روحانی تو ہیں مادیت کے قلعوں کو مسمار کرنے کے لئے گاڑی جارہی ہیں۔یہ کام تو ہو گا جب ہو گا مگر جہاں تک انسانی تدابیر کا سوال ہے اس کے لحاظ سے بھی اب ایسا زمانہ آرہا ہے کہ ہمیں اپنے کاموں کو بڑھانا پڑے گا۔اگر کسی شخص کے ہاں آج بچہ پیدا ہوتا ہے اور اس کے لئے ایک گز کپڑا در کار ہوتا ہے تو کوئی احمق ہی ہو گا جو یہ کہے کہ اگلے سال بھی اتنے کپڑے میں ہی کام چل جائے گا۔کیونکہ اگلے سال اس کے لئے دو گز کپڑ ا در کار ہو گا۔اور کوئی نادان ہی ہو گا جو یہ خیال کرے کہ پانچ چھ سال کے بعد بھی دو گز میں ہی کام چل جائے گا کیونکہ پانچ چھ سال کے بعد پھر اسے تین چار گز کپڑا در کار ہو گا۔اسی طرح جوں جوں وہ بچہ بڑھتا چلا جائے گا اس کے لئے زیادہ سے زیادہ کپڑا درکار ہو گا۔پس ہم نے اگر آج ایک کام شروع کیا ہے تو کل اس کام میں جو زیادتی پیدا ہونے والی ہے ہمیں اس کو بھی مد نظر رکھنا پڑے گا۔اگر آج ہم اڑھائی لاکھ روپے سے کام شروع کرتے ہیں تو آج سے پانچ سال بعد ہمیں پانچ لاکھ روپیہ کی ضرورت ہو گی اور اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ہمیں آج سے ہی سامان کرنا ہو گا۔اس لئے میں نے جائیداد کی آمد کو اس وقت بالکل مد نظر نہیں رکھا۔اول تو اس جائیداد پر پانچ لاکھ روپے کا قرضہ ہے۔اس عرصہ میں اس سے جو آمد ہو گی اس سے یہ قرضہ اتاریں گے۔اس کے بعد جو آمد ہو گی اس کو ریزرو فنڈ میں جمع کریں گے۔اور پھر اس سے