خطبات محمود (جلد 26) — Page 78
$1945 78 خطبات محمود فیصدی رقم خطرہ میں رہتی ہے۔مگر جو حصہ باقی رہ گیا تھا انہوں نے قربانی کرنے میں کو تاہی کی ہے اور انہوں نے ابتدائی حصہ لینے والوں کے برابر اخلاص کا نمونہ پیش نہیں کیا۔اس وقت تک دفتر اول کے گیارھویں سال میں صرف ایک لاکھ پچاس ہزار روپیہ کے وعدے آئے ہیں۔یہ لیکن یہ وعدے صرف ہندوستان کے ہیں۔ہندوستان سے باہر کے وعدے ابھی باقی ہیں۔اور ابھی ہندوستان کے وعدوں میں بھی آٹھ دس دن باقی ہیں۔سات دن 7 فروری) تک تو وعدے لکھوائے جاسکتے ہیں اور کچھ وقت ڈاک میں خطوط آنے پر بھی صرف ہو گا۔اس کو ملا کر قریباً دس دن ابھی باقی ہیں۔میرا اندازہ ہے کہ اس سال دولاکھ سے اوپر کے وعدے ہو جائیں گے۔لیکن یہ دولاکھ کی رقم تبلیغ کے اس بوجھ کو اٹھانے کے قابل نہیں۔کیونکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے ان مشنوں کو جاری رکھنے کے لئے اڑھائی لاکھ روپیہ سالانہ کی کم سے کم ضرورت ہے اور جو نئی تحریک (دفتر دوم) کی میں نے جاری کی تھی مجھے افسوس ہے کہ اب تک وہ پوری طرح منظم نہیں ہو سکی۔اس کے وعدے اس وقت تک صرف پچیس ہزار سالانہ کے ہوئے ہیں۔اگر دفتر دوم کو منظم کر کے پانچ ہزار نئے آدمی تیار کر لئے جائیں تو امید ہے دفتر دوم کے ذریعہ سے بھی ڈیڑھ دو لاکھ روپیہ سالانہ کی آمد ہو سکتی ہے۔اور اگر اللہ تعالیٰ توفیق دے تو دفتر اول والوں کی قربانی کا وقت ختم ہونے کے بعد یہ لوگ اس بوجھ کو اٹھا سکیں گے۔مگر جو وقفہ پڑا ہے اور اس سے جو کمی واقع ہوئی ہے اس کمی کو دور کرنے کے لئے جماعت کو اس کام کی اہمیت سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جو کام ہمارے سامنے ہے اس کے لئے کتنی بڑی قربانی درکار ہے۔بعض لوگوں کے دلوں میں یہ بھی خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ جائیدادوں کی آمدنی کہاں جائے گی۔یہ بھی میں واضح کر دیتا ہوں کہ بڑے کاموں کے لئے ہمیشہ بڑی تیاری کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جیسا کہ میں نے بتایا ہے نہ تو تبلیغ کا یہ دائرہ وسیع ہے جس کا میں نے ذکر کیا ہے اور نہ ہی اتنے مبلغ کافی ہو سکتے ہیں۔ہمیں ہر ملک میں اس سے آٹھ دس گنا زیادہ مبلغ رکھنے پڑیں گے اور علاقوں کے لحاظ سے گویا ساٹھ ستر گنا زیادہ علاقوں میں تبلیغ کو وسیع کرنا پڑے گا۔ا خطبہ کی درستی تک دولاکھ پانچ ہزار کے وعدے ہو چکے ہیں۔