خطبات محمود (جلد 26) — Page 62
+1945 62 5 خطبات محمود ستیارتھ پرکاش کا جواب۔آخری پارہ کی تفسیر (فرمودہ 2 فروری 1945ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ” میں نے جلسہ سالانہ پر آج سے ایک مہینہ پہلے اس سال کے متعلق بعض کاموں کا اعلان کیا تھا اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس وقت تک وہ کام اپنے پروگرام کے مطابق ہو رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے چاہا تو پروگرام کے مطابق وہ ہو جائیں گے۔ایک تو میں نے ستیارتھ پرکاش کا جواب شائع کرنے کا اعلان کیا تھا۔چنانچہ اس کا جواب قریباً سات آٹھ بابوں کا ہو چکا ہے اور بقیہ تیار ہو رہا ہے۔جو نوجوان اس کام کو کر رہے ہیں مجھے خوشی ہے کہ وہ محنت کے ساتھ کر رہے ہیں۔اور مجھے اس بات کی بھی خوشی ہے کہ ہماری جماعت میں ایسے نوجوان پیدا ہو رہے ہیں جو ہندو لٹریچر کو اس کی اپنی زبان میں پڑھ کر غور کر سکتے ہیں۔اس کام کے لئے میں نے مولوی ناصر الدین صاحب عبد اللہ اور مہاشہ محمد عمر صاحب اور مہاشہ فضل حسین صاحب کو مقرر کیا ہوا ہے۔اور یہ تینوں بہت جانفشانی سے اس کام میں لگے ہوئے ہیں۔اور میں سر دست ایڈیٹنگ (Editing) کرتا ہوں۔وہ نوٹ لکھ کر مجھے دے دیتے ہیں اور میں جرح کر کے واپس بھیج دیتا ہوں۔پھر وہ اصل مضمون لکھ کر بھیج دیتے ہیں اور میں اسے دیکھ لیتا ہوں۔اس میں میرا اپنا کام صرف اتنا ہی ہے کہ جو دلائل کمزور ہوں ان کی طرف انہیں توجہ دلا دیتا ہوں کہ یہ یہ دلائل کمزور ہیں۔یا تمہارا یہ اعتراض ان معنوں پر پڑتا ہے اور ان معنوں پر نہیں پڑتا۔یا یہ کہ