خطبات محمود (جلد 26) — Page 55
+1945 خطبات محمود 55 کس کو دین کی خدمت کا موقع ملے اور کس کو نہ ملے۔میں نے بہر حال اپنی طرف سے انہیں دین کے لئے ہی وقف کیا ہوا ہے اور ان کو تعلیم دلانے میں بھی میں نے ہمیشہ اسی چیز کو مد نظر رکھا ہے۔میں نے اپنی اولاد میں سے کبھی ایک بیٹے کو بھی خالصہ اپنے لئے رکھنے کی خدا تعالیٰ سے درخواست نہیں کی۔یہ سب اُسی کے دیئے ہوئے ہیں اور اُسی کی چیز ہیں۔اُس کی مہربانی اور اُس کا احسان ہو گا تو ان کو اپنے دین کی خدمت کے لئے قبول فرمالے گا۔لیکن اگر وہ کسی کو اس کی غفلت کی وجہ سے رد کر دے تو میں بری الذمہ ہوں۔میں نے اپنے لئے ان کو لینے کی کبھی ضرورت نہیں سمجھی سوائے اس کے کہ اپنے گزارہ کے لئے باری باری کچھ عرصہ وہ جائیداد کا انتظام کریں تا دوسرے دین کا کام کر سکیں۔اور وہ بھی دوسرے وقت میں دین کا کام سیمیں۔میر اتو عقیدہ ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی باقی اولاد بھی اگر اس پر غور کرے تو اسے سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے اتنے بڑے احسان کے بعد کہ شدید ترین گمراہی کے وقت میں اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہمارے خاندان میں سے مبعوث فرمایا۔اس احسان کے بعد بھی اگر ہمارے اندر دنیا طلبی اور دین سے بے رغبتی پائی جائے تو ہم سے زیادہ بد قسمت اور کون ہو سکتا ہے۔اس ایک احسان کے بدلہ اگر ہمارا سر قیامت تک خدا تعالیٰ کے آگے جھکا رہے تو ہم اس احسان کا بدلہ نہیں اُتار سکتے۔یہ خدا تعالیٰ کا اتنا بڑا احسان ہے کہ اس سے بڑھ کر احسان ممکن ہی نہیں۔میں سمجھتا ہوں اس احسان کو دیکھ کر اگر ہمارے خاندان کے لوگ ہی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں تو چونکہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وعدہ فرمایا ہے کہ تری نسلاً بَعِيدًا - 7 یعنی تیری نسل دور دور تک پھیل جائے گی۔اور جس طرح ہم نے ابراہیم علیہ السلام سے وعدہ کیا تھا اسی طرح تیری نسل بھی اتنی زیادہ ہوگی کہ وہ گنی نہیں جائے گی۔پس ہمارے خاندان ہی کے افراد اگر دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیں تو تبلیغ اور مبلغوں کا سوال حل ہو جاتا ہے۔مگر بہر حال کسی ایک شخص کے اپنے آپ کو پیش کر دینے سے دوسرے لوگ بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔جب تک ساری جماعت اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لئے پیش نہیں کرتی اُس وقت تک جماعت بری الذمہ