خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 473 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 473

$1945 473 خطبات محمود پھرنے لگے۔ایک دفعہ حج کے ایام میں آئے تو لبید جو کہ بعد میں مسلمان ہو گئے تھے اور ایک سو بیس سال کی عمر میں فوت ہوئے ایک مجلس میں رؤسا کو شعر سنانے لگے۔اُس وقت ان کی عمر اسی سال کے قریب تھی اور بوجہ اس کے کہ وہ عرب کے سب سے بڑے شاعر تھے اور بوجہ اس کے کہ وہ بڑی عمر کے تھے اور عرب لوگ بڑی عمر والوں کا خاص طور پر ادب کیا کرتے تھے ان کی سارے عرب میں بہت بڑی عزت تھی۔جب وہ مجلس میں لوگوں کو شعر سنا رہے تھے اور عرب کے رؤساء انہیں بڑھ بڑھ کر داد دے رہے تھے تو انہوں نے یہ شعر پڑھا۔الَّا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِل اے لوگو سنو! اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔حضرت عثمان نے بڑے جوش سے کہا۔صَدَقْتَ تم نے سچ کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز فانی ہے۔اتنے بڑے انسان کے لئے ایک بچے کی تصدیق ہتک سے کم نہیں تھی۔لبید غصہ میں آکر کہنے لگے مکہ والو ! تم میں کب سے یہ گستاخی کا طریق جاری ہوا ہے کہ میرے جیسا شاعر جس کا مثل سارے عرب میں نہیں اُسے اٹھارہ اٹھارہ سال کے لڑکے داد دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم نے سچ کہا۔کیا میرے جیسا شاعران نو عمر لڑکوں کی داد کا محتاج ہے۔وہ لوگ جو حضرت عثمان کے ارد گرد بیٹھے شعر سن رہے تھے انہوں نے حضرت عثمان سے کہا بچے! اگر بیٹھنا ہے تو آرام سے بیٹھو نہیں تو چلے جاؤ۔اس قسم کی ہتک آمیز باتیں کرنے کی تمہیں اجازت نہیں۔جب لوگ اُن کو ڈانٹ ڈپٹ کر بیٹھ گئے تو لبید نے اگلا مصرع پڑھا۔وَكُلُّ نَعِيْمٍ لَا مَحَالَةَ زَائِلُ تمام نعمتیں آخر کار فنا ہونے والی ہیں۔جب اُس نے یہ مصرع پڑھا تو حضرت عثمان نے کہا کذبت۔تم جھوٹ کہتے ہو۔نَعِيْمُ الْجَنَّةِ لَا يَزَالُ۔جنت کی نعمتیں کبھی زائل نہیں ہوں گی۔اس پر لبید نے کہا اب تو حد ہو گئی۔پہلے تو یہ لڑکا سمجھتا تھا کہ لبید اس کی تصدیق کا محتاج ہے مگر اب تو اس نے میری صریح ہتک کر دی ہے میں اب کوئی شعر نہیں سناؤں گا۔اس پر لوگوں کو سخت غصہ آیا اور حضرت عثمان پر جھپٹ پڑے۔اس دوران میں ایک حضرت عثمان کے اِس زور سے گھونسا مارا کہ انگوٹھا اُن کی آنکھ کے اندر گھس گیا اور ڈیلا باہر نکل نے