خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 470

$1945 470 خطبات محمود نے انہیں پروانہ خلافت عطا کیا اور انہوں نے دہلی میں تبلیغ اسلام کا کام شروع کیا۔پس وہ ہندوستان کی روحانی بادشاہت میں چوتھے بادشاہ تھے۔ہندوستان میں اسلام کا بہت کچھ رُعب حضرت خواجہ نظام الدین صاحب کی وجہ سے ہی قائم ہوا ہے کیونکہ ان کے زمانہ میں اسلامی حکومت کا قیام ہوا۔اور چونکہ حکومت کی وجہ سے کمزور ایمان والے لوگ دنیا کی طرف جھک جاتے ہیں اور ان میں دین کی محبت اور قربانی کا وہ جذبہ قائم نہیں رہتا جو پہلے ہوتا ہے اس لئے ان خرابیوں کی اصلاح کا فرض بھی خواجہ نظام الدین صاحب پر عائد ہوا جس کو انہوں نے بڑی خوش اسلوبی سے ادا کیا۔خواجہ نظام الدین صاحب کے ایک شاگر د خواجہ غلام علی صاحب تھے جو بعد میں ان کے خلیفہ اور جانشین ہوئے۔ان سے ایک دفعہ مجلس میں کوئی ایسی حرکت سرزد ہوئی جو نامناسب تھی۔اتفاق ایسا ہوا کہ خواجہ صاحب نے ان کی اس غلطی کو دیکھ لیا اور انہیں سخت تکلیف ہوئی کہ میری صحبت میں ایک لمبا عرصہ رہنے کے باوجود انہوں نے اپنی اصلاح کی کوشش نہیں کی۔دوسری طرف شاگرد کی نظر بھی اپنے استاد پر جا پڑی اور اس نے سمجھ لیا کہ میری غلطی کو خواجہ صاحب نے دیکھ لیا ہے۔جب ایک طرف استاد کی نظر اپنے شاگرد پر پڑی اور دوسری طرف شاگرد کی نظر اپنے استاد پر پڑی تو خواجہ غلام علی صاحب نے اپنے پیر کو مخاطب کرتے ہوئے بے اختیار کہا۔زہد تا یاں فسق مایاں کم نہ کرد فسق مایاں بہتر از زہد شماست یعنی آپ کے تقویٰ نے میری کمزوریوں کو دور نہیں کیا۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ میری گنہگاری آپ کی نیکی سے طاقتور ہے۔کیونکہ جب دونوں کا آپس میں مقابلہ اور ٹکراؤ ہوا تو میری بدی آپ کی نیکی پر غالب آگئی۔حالانکہ میں نے نیکی کو موقع دیا تھا کہ وہ میری بدی پر غالب آجائے لیکن اس کے باوجود میری بدی آپ کی نیکی پر غالب آگئی۔شاگرد کے اس کلام سے خواجہ صاحب کے دل کو چوٹ لگی۔اور انہوں نے جواب میں کہا اچھا دیکھا جائے گا۔پھر کچھ ایسے درد سے انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ان کی اصلاح کی بلکہ ایسی اصلاح کی کہ